نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  عیسی علیہ السلام سے متعلق مسلمانوں کا عقیدہ ) 

Post
10-7-2012 1613  زيارة   

س:

حضرت عیسی بن مریم علیہماالسلام سے متعلق مسلمانوں کا کیا عقیدہ ہے؟

ج: الحمدللہ

حضرت عیسی مسیح علیہ السلام سے متعلق ہمارا وہی عقیدہ وایمان ہے جو کتاب اللہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلام میں مذکور ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں اور اللہ تعالی کے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی کی توحید اور اس کی عبادت کی دعوت کے لئے بنی اسرائیل کی جانب مبعوث فرمایا تھا۔

ارشاد ربانی ہے: وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ)    الصف:6 )

ترجمہ: اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کے اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمدﷺ ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں۔ (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

"وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَار"ٍ) المائدہ:72 )

ترجمہ: مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

عیسی علیہ السلام خدا نہیں ہے اور نہ اللہ کے بیٹے ہیں جیسا کہ نصاری کا عقیدہ ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ۖ ذَ‌ٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ) التوبہ:30 )

ترجمہ: اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے جھولے میں سب سے پہلی بات جو کہی تھی وہ یہ تھی: ارشاد باری تعالی ہے:

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا) مریم:30 )


ترجمہ: بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کے معجزوں   اورنشانیوں کی تائید فرمائی: ارشاد باری تعالی ہے:

إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ (المائدہ:110 )

ترجمہ: جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (یعنی جبرئیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا جب تم ان کے پاس کھلے نشان لے کر آئے تو جو اُن میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ عیسی علیہ السلام کنواری اور پاکدامن خاتون حضرت مریم  علیہا السلام  کے بطن سے بغیر باب کے پیدا ہوئے، اللہ کی قدرت کے سامنے یہ بات کوئی مانع نہیں ، اللہ تعالی کی ذات وہ ہے جب وہ  کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو اس کے لفظ کن کہنے پر وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔

ارشاد ربانی ہے: إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ )آل عمران:69 )

ترجمہ: عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے۔

نیز ارشاد ہے: إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ۔ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ۔ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَ‌ٰلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ۔  )آل عمران:45-47 )

 

ترجمہ: (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا۔ اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا۔ مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ عیسی علیہ السلام نے  یہود کے لئے بعض اُن چیزوں کو حلال قراردیا تھا جو اُن پر حرام تھی۔

اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کے اُس قول کو نقل فرمایا جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا تھا:

 وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ۔

)آل عمران:50 )

ترجمہ: اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلال کر دوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نہ وفات ہوئی اور نہ انہیں ان کے دشمن یہودیوں نے قتل کیا بلکہ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دی اور آپ کو زندہ جاوید آسمانوں میں اٹھادیا۔

ارشاد ربانی ہے:

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِين۔ٌ)   الصف:6 )

ترجمہ: اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کے اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمدﷺ ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں۔ (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہونگے اور یہودیوں کے دعوائے قتل کو جھوٹ ثابت کریں گے، اسی طرح نصاری کے عقیدہ الوہیت مسیح اورابن اللہ کو جھوٹ ثابت کریں گے، اورآپ علیہ السلام نصاری سے اسلام کے سوا کوئی چیز قبول نہیں فرمائیں گے۔

امام بخاری ومسلم نے حدیث رسول نقل کی ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں  میری جان ہے، قریب ہے کہ تم میں مریم کے بیٹے نازل ہوں"۔

اور ایک روایت میں اس طرح آیا ہے:

”قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تم میں عیسی بن مریم (شریعت نبوی کے مطابق) حاکم، اور عدل پرور امام کی حیثیت سے نازل ہوجائے، وہ صلیب کا خاتمہ کریں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کریں گے اور مال کی کثرت ہوگی یہانتک کہ کوئی مال قبول کرنے والا نہ ہوگا"۔

صلیب اور خنزیر کو ختم کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نصرانیت اور نصاری کے عقائد کو باطل قرار دیں گے۔

امام نووی رحمہ اللہ جزیے کی تشریح کرتےہوئے کہتے ہیں:

"صحیح بات یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کفار سے اسلام کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں فرمائیں گے، وہ جزیے کو مسترد کردیں گے، آپ کفار سے یا تواسلام قبول کریں گے یا پھر انہیں قتل کرنے کا حکم دیں گے۔ امام ابوسلیمان الخطابی اور دیگر علماء کی یہی رائے ہے"۔

مال کی کثرت سے مراد: برکات کا نزول ہوگا، عدل اورعدم ظلم وزیادتی کی وجہ  سےخیرعام ہوگا، اُس وقت زمین اپنے خزانے اُگلنے شروع کردیں گی، اور قرب قیامت کا علم ہونے کے سبب لوگوں کی مال کی جانب سے رغبت کم ہوجائے گی، اس زمانے میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہوگی، مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور آپ کو دفن کریں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

میں حضرت عیسی بن مریم سے زیادہ قریب ہوں۔انبیاء بھائی بھائی ہیں، میرے اورآپ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔(صحیح مسلم)

 

ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام روز قیامت اُن لوگوں کے دعوے سے اپنی براءت کا اظہار کریں گے جو آپ علیہ السلام کو"الہ"  کا درجہ دیتے ہیں۔

ارشاد ربانی ہے:

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔

(المائدہ:116۔117)


ترجمہ: اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے۔ میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔

 

یہ ہے مسلمانوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ۔

 

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"جس نے یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اور عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہے، جسے اللہ تعالی نے مریم میں ڈالا اور اس کی روح ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، تواللہ تعالی اس شخص کو جنت میں داخل کریں گے چاہے اس کے اعمال جیسے بھی ہوں۔ ( بخاري ومسلم)

 باری تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان پراستقامت عطا فرمائے اور اسی پر ہمیں موت دے۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد

                                                                              ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی

                                                                                        نظر ثانی: علاء الدین عین الحق مکی


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي