نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  طریقہ دعوت برائے غیر مسلم ) 

Post
10-7-2012 1860  زيارة   

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اللہ سبحانہ تعالے نے نبی کریم محمد کو داعی (دعوت دینے والا ) خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا (آگاہ کرنے والا) بنا کر دنیائے انسانیت کے لیے مبعوث فرمایا، چنانچہ آپ کی پوری پیغمبرانہ زندگی اس ذمہ داری کے احساس اور ادائیگی سے پُر ہے۔ فرمان الٰہی ہے:  ” اے نبی بے شک ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور انکار وبدعملی کے نتائج سے آگاہ کرنے والا اور اللہ کی اجازت سے اس کی طرف لوگوں کو بلانے والا اور روشن آفتاب کی حیثیت سے بھیجا ہے(بنایا ہے) (سورہ احزاب آیت نمبر۵۴۔۶۴) اس طرح رسول نے رسالت کی تبلیغ کرتے ہوئے، دینی امانت کو ادا کرتے ہوئے، امت کو نصیحت وتذکیر کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں پوری پوری جد وجہد(دعوت) کرتے ہوئے اپنی جا ن جان آفریں کے سپرد کردیا اور اپنے رفیق اعلی سے جاملے۔ اس کے نتیجے میں پورا جزیرہ ٔعرب عقیدۂ توحید کا فرماں بردار وعلمبردار ہوگیا اس کے ساتھ ہی آپ نے اپنے پیچھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک ایسا پاکیزہ گروہ (جماعت ) چھوڑا جو آپ کے راستے اور طریقے پر تاحیات عمل پیرا رہے اور بالشت کے برابر بھی اس سے انحراف نہ کیا(سرموانحراف نہ کیا) اور انفرادی طور پر یا اجتماعی سطح پر اسلام کی روشنی کو جزیرۂ عرب سے باہر لوگوں تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی، حتی کہ خشکی اور صحرا کی بھی کوئی پرواہ نہ کی اور تبلیغ دین کی خاطر اپنی جان جوکھم میں ڈالدیا اور اسی ذمہ داری کی ادائیگی میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے ملک سے باہر دور دراز ممالک میں موت کے آغوش میں ابدی نیند سوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

بیشک انھوں نے دعوت کے بار گراں کی ادائیگی میں دین کی خاطر اپنے گھروں اور ہرچیز کی قربانی بھی دی، انہیں نفوس قدسیہ کے نقش قدم کی پیروی تابعین نے بھی کی چنانچہ بہترے ممالک فتح کیے اور ساری دنیا میں پھیل گئے۔ آج بھی ان کے کارنامے اور ان کے نشانات دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے واضح ثبوت ہیں۔

 

بردران اسلام: آج جبکہ ان بزرگوں کی کوششوں کے بدلے آپ دین اسلام اور عقیدۂ توحید کی نعمت سے مالامال ہیں دنیا کی اکثر وبیشتر قومیں آپ کے پاس خود چل کر کام کے لیے آتے ہیں، آپ کی باتیں سنتے بھی ہیں اور دنیوی مال ومتاع سے پورا پورا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔

 

کیا آپ نے اس نکتہ پر غور کیا کہ پوری دنیا میں نظریاتی وتہذیبی کشمکش بہت گرم ہوگئی ہے اور ہر نظریے کے علمبردار اپنے نظریے کی تبلیغ کررہے ہیں اور اس کے لیے بھاری رقم بھی خرچ کررہے ہیں ۔انھوں نے اپنے ذرائع ابلاغ کو اس پر لگادیا ہے اور معیاری بحث وتحقیق کے شعبے قائم کررکھے ہیں۔

 

یقینا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں اور آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو تمام انسانیت کو اپنا پیغام دینا چاہتا ہے، تمام پیغمبروں کا دین یہی اسلام ہی ہے اور تمام انسانیت کے دین کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے ہی پسند کر رکھا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے(آل عمران۱۹) اور فرمایا :” اور جوکوئی اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین اختیار کرلے اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا (آل عمران ۵۸) اور یہ بھی فرمایا  ”آج میں نے تمہارے لیئے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت پوری کردی اور اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا (سورہ مائدہ آیت نمبر۳)

اللہ تعالی کو دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین مقبول نہیں ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اس بات کا پورا یقین رکھتا ہے کہ غیر مسلم اپنے طور طریقے اور افکار وادیان کے اختلاف کے باوجود سب کے سب اسلام کی دعوت کے حقدار ہیں جو عقیدۂ توحید کی طرف سب کو دعوت دیتا ہے، یہی وہ عقیدہ ہے جس کی دعوت تمام انیباءاور رسل نے اپنے اپنے قوم کو دی ہے اور ان سے اس بارے میں لڑائی اور جھگڑے کی نوبت بھی پیش آئی ہے۔ ایک دوسرے اعتبار سے غور کیا جائے تو اسلام ہی دین کامل ہے جو تمام سفینۂ  زندگی کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے، خواہ سماجی زندگی ہو یا معاشی اورسیاسی۔ اس طرح دین اسلام روئے زمین پر بسنے والی تمام لوگوں کے لیے خواہ وہ کالی ہوں یا گوری، عربی ہوں یا عجمی ایک عالمی پیغام ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آدمی (انسان)چاہے اس کا مرتبہ ومقام جو بھی ہو اور اس کا تعلیمی وسماجی رتبہ جیسا بھی ہو وہ دین اسلام سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دعوت دین کا کام امت مسلمہ کے لیے شرف اور فضیلت کی بات ہے کیونکہ انسانیت کو صراط مستقیم کی دعوت دے کر آدمی اپنا شمار اس عظیم مقصد نبوت ورسالت میں کراتا ہے جس کی لیے انبیاءاور رسل کی بعثت عمل میں آئی اور اس ذمہ داری کی ادائیگی سے انسان اس بڑے مقصد اور شرط کی تکمیل کرتا ہے جس سے خیر امت کے مقام کو وابستہ کیا گیا ہے ” كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ “ تم ہی وہ بہترین گروہ ہو جو لوگوں کے لیئے برپا کیا گیا ہے، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایما ن رکھتے ہو(آل عمران ۰۱۱) اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد خواہ مرد ہو یا عورتیں انفرادی طور پر ان کی ذمے داری ہے کہ دین اسلام کی دعوت کا فریضا انجام دیں اور اس کی صفت سے متصف ہوں جس سے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متصف تھے۔

 

اس طویل تمہید کے بعد فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دعوت دین کا طریقہ کیا ہے؟

پہلی بات: سب سے پہلے بنیادی بات تویہ ہے کہ آپ کوخود ایک نمونہ اور اسوۂ  حسنہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا، اس سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کی زندگی مبارک ہمارے لیے  بہترین نمونہ ہے، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ مبعوث ہونے سے پہلے صادق (سچا) اور امین(امانتدار) کی حیثیت سے مشہور ومعروف تھے اور نبوت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد قرآن کریم آپ کا چلتا پھرتا اخلاقی نمونہ تھا، جیسا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا، اور اس وجہ سے آپ ﷺ اپنے رب کریم کی تعریف کے حقدار ثابت ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ” وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ“(اور آپ عظیم اخلاق کے منصب پر فائز ہیں) (سورۂ قلم۱)

اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی لیئے سخت وعید نازل فرمایا جن کے قول اور فعل میں تضاد ہو يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ “ ترجمہ: مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے (سورۂ صف ۲۔۳) اور یہ بھی ” أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ  (بقرہ:۴۴)   ترجمہ: (یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

ایک مسلمان اور خاص طور پر ایسا آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے فہم وشعور کی نعمت سے نوازا ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے علم اور غوروفکرسے مستفید ہو اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔

اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چند اوصاف ایسے ہیں جن پر ایک مسلمان کا آراستہ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے وہ نمونہ بن سکے اور وہ جب اسے دیکھیں تو یہ محسوس کریں کہ یہ شخص ایک چلتا پھرتا اسلام ہے۔ ان اوصاف میں سے بطور مثال ایک یہ بھی ہے کہ داعی اپنی زندگی کو دین اسلام کے احکام کا پابند بنائے اور اوامر ونواہی پر عمل کرنے کی پوری پوری کوشش کرے۔

 

دوسری بات: ایک انتہائی اہم بات یہ بھی ہے جس کی حیثیت داعی کے لیے بنیادی اور نازک محرک کی ہے، داعی اپنے ہر کام میں خواہ کتابت، تصنیف وتالیف کا میدان ہو یا خطابت اور تقریر کا یا گفتگو، مذاکرہ اور علمی بحث ومباحثہ ہو۔ ہر کام میں پیارا اور پسندیدہ انداز اختیار کرے، اپنے پیارے اسلوب سے بڑے سے بڑا ہدف اور مقصد کو کم سے کم خرچ، لاگت اور تھوڑے وقت میں حاصل کیا جاسکتاہے۔ کیونکہ ایک آدمی جب اپنے خیالات ونظریات اور اصولی باتوں کو پرکشش انداز میں بیان کرتا ہے جس سے کہ دوسرے کے دلوں میں اسلام کی لیے  حجت پیدا کی جاسکے تو یقینا وہ اس سے قریب ہونگے اور نفرت کے راستے کو چھوڑیں گے۔ اس طرح یہ بھی ایک اسلوب ہے کہ لوگوں کو ان کے شعور وعقل کے اعتبار سے مخاطب کیا جائے۔ چنانچہ عام لوگوں سے فلسفہ ومنطق کے انداز میں گفتگو نہ کہ جائے اور نہ ہی اپنے دل پسند لوگوں سے جذباتی انداز میں جو حجت اور عقلی دلیل سے خالی ہو گفتگو کی جائے۔

اور انسانی فطرت یہ ہے کہ آدمی اس سے حجت کرتا ہے جو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے بلکہ بسا اوقات آدمی سخت انداز کے رد عمل میں تکبر، ضد اور نفرت کرنے پر اتر آتا ہے، نرمی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی مداہنت، ریاکاری اور نفاق سے کام لے۔ بلکہ یہ نرمی ، نصح وخیرخواہی اور بھلائی کی باتوں میں استعمال ہو جس سے کہ دلوں کے بند دروازے کھلیں اور سینے میں کشادگی پیدا ہو۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر موسیٰ وہارون علیہماالسلام سے تلقین کرتے ہوئے کہا ہے ” اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ، فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ

 ترجمہ: تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکشی پر اتر آیا ہے اور اس سے نرم باتیں کرو تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے یا اس کے دل میں ڈر پیدا ہو (طہ ۴۳۔۴۴)

 

تیسری بات: مدعو کی پہچان اور اس کے نظریات، تصورات کی خرابی اور مسائل کی واقفیت حاصل کرنا لیکن کیونکہ اس طریقہ سے اس کے دل میں گھر کرنے کے لیے  راستہ ہموار ہوتا ہے۔دراصل ایک مسلمان کا کام بیماری کی تشخیص کرنااور پھر اس کے لیے  دوا وعلاج پیش کرنا ہے اسے اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ دوسرے لوگ اپنے علاج کے لیئے اس کے پاس چل کر آئیں گے بلکہ اسے خود ہی ان کے پاس چل کر جانا چاہیئے اور اس کے لیئے خاص مواقع اور تقریبات جیسے شادی وغیرہ کا وقت منتخب کرنا چاہیئے۔

 

چوتھی بات:

ایک داعی کے لیئے نہایت ضروری ہے کہ دعوتی موضوعات میں عقیدۂ اسلامی کو بنیادی اہمیت دے اور کوشش کرے کہ مدعو کے قلب وذہن میں ایمان باللہ کا بیج اچھی طرح بودے، اور یہ بھی کوشش کرے کہ مدعو کے ذہن نشین کردے کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا، روزی دینے والا، زندہ رکھنے والا اور موت سے دوچار کرنے والا ہے اور یہ بھی کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اور حساب وکتاب بھی ہونے والا ہے جہاں نیکوکار اپنی نیکی کا اچھا بدلہ پائے گا اور بدکار اپنی بدی (بدکاری) کے برے نتیجہ سے دوچار ہوگا۔ اس لیئے عقیدۂ اسلامی کے بارےمیں گفتگو کرنا اور اس کی روح اور لازمی بنیادی امور کو اجاگر کرتے رہنا داعی کی دعوت کی بنیاد ہے اور یہ ایسی ذمہ داری ہے کہ اس کی طرف برابر توجہ دلانا ضروری ہے ،اور کبھی بھی اس سے بے پرواہی نہیں برتنا چاہیئے۔ کیونکہ دین اسلام میں اس کی حیثیت بنیادی ستون کی ہے۔ جب یہ بنیاد مضبوط ہوجائے اور مدعوحضرات پورے طور پر قبول کرلیں تو پھر داعی کے لیئے اسلامی احکام، تقاضے اور دیگر جزئیات سے مطمئن کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اس کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیئے کہ ایک داعی جب مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں گفتگو کرے تو اس کی پوری وضاحت کردے کہ مسلمان آج جو مغلوبیت، پسماندگی اور آپسی اختلاف وانتشار کی زندگی جی رہے ہیں اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری۔

اور اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ مدعو کو جب عقیدۂ اسلامی کی بنیادوں کا پورا شعور ہوجائے اور وہ کلمہ توحید لاالہ الااللہ کے شرائط سے پوری طرح واقف ہوجائے تو پھر اسے دیگر اسلامی اصول اور اس کی تعلیمات سے آگاہ کرنا نہ صرف یہ کہ آسان ہوجائے گا بلکہ یہ چیز اسے قرآن کریم کے زبانی یاد کرنے میں بھی مدد کرے گی۔

 

پانچویں بات:

مسلمان کو دعوتی کام میں تاکیدی طور پر صبر کا حکم دیا گیا ہے اسے اپنی دعوتی کوششوں کے ثمرات ونتائج دیکھنے کی لیئے جلد بازی سے ہر گز کام نہ لینا چاہیے۔ اور اسی طرح اسے ناامیدی اور کسی وہم اور غلط فہمی کا بھی شکار نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی کوششیں بار آور نہیں ہورہی ہیں اور اس دعوتی کا م میں صبر کا لازمی تقاضا ہے کہ جہاں نصیحت کرنا ضروری ہے ہو وہاں اس میں کوئی کمی کوتاہی نہ برتے اور ایسے موقع پر حق بات ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جو بیباکانہ انداز میں کہی جائے۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے: وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ” اور ائے نبی! آپ کہہ دو (اعلان کردو) حق تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے ، اب جو چاہے اسے اختیار کرے کہ ایمان لائے یا انکار کردے(کفر کا رویہ اپنائے) ( سورۂ کہف ۲۹)

 

چھٹی بات:

ایک مسلمان سے اللہ کہ راہ میں قربانی مطلوب ہے۔ وقت کی قربانی، محنت اور جدوجہد کی قربانی، ذہن کو فری کرنے کی قربانی، سماجی مقام ومنصب کی قربانی، اپنے روشن مستقبل اور کیرئیر کی قربانی، ارمان وآرزوؤں اور امیدوں کی قربانی۔اپنی ان تمام محبوب چیزوں کی قربانی میں سلف صالحین کو نمونہ بنانا چاہیے۔جنہوں نے دعوت  کی راہ میں قربانی کی یادگار اور خوشگوار مثالیں قائم کیں ہیں۔ اس لیئے خلف اور بعد کی نسل کی لیئے یہی بہتر ہے کہ اپنے آبا واجداد کے نقش قدم پر چلنے کی کوششیں کریں، مسلمانوں کو تاریخ میں اپنا نا درج کرانے کے لیئے ضروری ہے کہ قربانی کی صفت اپنے اندر پیدا کریں، کیونکہ اس صفت سے خالی ہونے کا صاف مطلب ہے کہ ان کے اندر دنیا کی حقیر چیز کے لیئے دل میں تڑپ پیدا ہوگئی ہے۔

قربانی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اسلام کے مفاد کو اپنی ہر چیز پر ترجیح دے خواہ حالات جیسے کچھ بھی ہوں۔ کاروبار، خریدوفروختاسے اللہ کی یاد، نماز قائم کرنے، اور اللہ کی راہ میں جہاد سے غافل نہیں کرسکتے۔

مسلمانوں کے دلوں میں دینی جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے اور اسی طرح دنیا کے اندر اسلام جس تخریب کاری اور گمراہ کن پروپیگنڈہ سے دوچار ہے اس سے بھی وہ خوش نہیں ہیں، اسلام کے لیئے ان کے دلوں میں تڑپ ہے مگر انہیں ایسے داعی کی ضرورت ہے جو انہیں صحیح رہنما ئی کرسکے اور صراط مستقیم کھول کھول کر بیان کرسکے۔

برادر عزیز: کیا ہی خوش نصیبی کی بات ہے کہ آپ ایسے حالات میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لیئے آگے آئیں، اس طرح آپ نے ان خطرات کو دور کرنے میں حصہ لیا ہے جس سے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمان دوچار ہیں۔

 

دعوت کے میدان میں چند فائدہ مند کتابیں:

۱۔ دعوت اور اوصان داعی (شیخ ابن باز)

۲۔ دعاة کی حالات زندگی (الہی الخول)

۳۔ دعاة کے حالات زندگی(ابوالاعلی مودودوی)

۴۔طریقۂ دعوت (عبدالبدیع صقر)

۵۔ دعوت  (مناع القطان)

۶۔ تاریخ دعوت وعزیمت (ابوالحسن علی الندوی)

۷۔ دعوت اور دعاة کی ڈائری(حسن البنا)

 

ترجمہ: علاء الدین عین الحق مکی

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي