نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  جمہوری نظام حکمرانی ) 

Post
10-7-2012 1493  زيارة   

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ جمہوری طرزحکومت شرک کی نئی شکلوں میں سے ایک شکل ہے یاتو اس شرک کا تعلق اطاعت اور فرمان برداری سے ہے یا تشریع (یعنی قانون سازی سے) کیونکہ اس نظام میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلی کو لغو قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کے قانون سازی کے مطلق حق کو سلب کرکے مخلوق کو اس کا پورا اختیار دیدیا جاتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

 

 ” مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَ‌ٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ "

ترجمہ: جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں، اللہ نے اُن کی کوئی سند نازل نہیں کی (سن رکھو کہ) اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے اُس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔(سورۂ یوسف ۰۴)

اور یہ بھی فرمان الٰہی ہے: ”ِ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ  “

ترجمہ: (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے (سورۂ  انعام ۔۷۵)

 (موسوعة الادیان والمذاہب المعاصرہ)


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي