نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  فضائل ماہ ذی الحجہ ) 

Post
10-7-2012 1749  زيارة   

رسول اللہ کا ارشاد گرامی ہے:

” دنیا کے دنوں میں افضل دن ماہ ذی الحجہ کے دس دن ہیں“

مطلب: عشرۂ ذی الحجہ (ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ)  (علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

پورے سال میں افضل دن ۔۔۔۔۔۔ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس روز ہیں۔

 

برادران گرامی قدر: یقینا یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فضل واحسان اور خاص رحم وکرم ہی ہے کہ اس نے امت محمدیہ کو چند ایسے دن اور موسم عطا فرمایا ہے جس میں نیک اعمال کے اجروثواب کئی گنا بڑھا دئیے جاتے ہیں چنانچہ انہیں نیکیوں کے موسم میں سے ایک موسم عشرۂ ذی الحجہ بھی ہے۔

 

عشرۂ ذی الحجہ کے چند فضائل:

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھائی ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی‘ ‘ (سورۂ فجر)

امام ابن کثیر ؒ نے فرمایا: دس راتوں سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہے۔

فرمان الٰہی ہے: ”اور یہ کہ وہ چند معلوم ومعروف دنوں میں اللہ کو یاد کیا کریں (سورۂ حج)

امام ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ حضرت ابن عباسؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہے۔

سلف صالحینؒ تین عشرے(دہے) کی خوب تعظیم کرتے تھے۔

پہلاعشرہ عشرہ ذی الحجہ

دوسرا عشرہ ماہ رمضان کا آخری عشرہ

تیسرا عشرہ ماہ محرم کا پہلا عشرہ

حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری کے اندر لکھا ہے تمام دلائل سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت اور خصوصیت کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمام بڑی اور اصل عبادتیں اس کے اندر یکجا ہیں جیسے نماز، روزہ، صدقہ وخیرات اور حج، جبکہ کسی بھی موقع سے یہ ساری عبادتیں اکھٹی نہیں ہوتیں۔

 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ سے عشرۂ ذی الحجہ اور ماہ رمضان کے عشرۂ اخیر کی بابت فتوی طلب کیا گیا کہ دونوں میں کس کو کس پر فوقیت حاصل ہے؟ آپ نے جوب دیا کہ عشرۂ ذی الحجہ کے دن عشرۂ رمضان کے دن سے بہتر ہیں اور رمضان کے عشرہ ٔ اواخر کی راتیں عشرۂ ذی الحجہ کی راتوں سے بہتر ہیں۔

سلف صالحین ؒ کا معمول یہ تھا کہ عشرۂ ذی الحجہ شروع ہوتے ہی اس میں اتنی کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ بسااوقات ان کے بس سے باہر ہوتا تھا۔

کعب ؓ راوی ہیں فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے وقت کو منتخب فرمایا اس طرح پسندیدہ ترین وقت چار محترم مہینے ہیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ پسندیدہ ماہ ذی الحجہ ہے اور اس ماہ میں بھی سب سے بڑھ کر پسندیدہ اس کے ابتدائی دس روز ہیں۔ (لطائف المعارف)

 

ان دس بابرکت دنوں کے مستحب اعمال:

۱۔ حج اور عمرہ کی ادائیگی: یہ دونوں سب سے افضل عمل ہیں۔

نبی کریم کا ارشاد ہے: ” پے در پے عمرہ کرنا دو عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مقبول کا صلہ جنت ہی ہے “ (جنت کے سوا کچھ بھی نہیں)(متفق علیہ)

۲۔ پورے دنوں کے روزے رکھنا یا اتنا رکھنا جتنا کہ رکھ سکے (روز عید اور ایام تشریق کے علاوہ) امام نووی ؒ نے یبان فرمایا کہ روزہ رکھنا نہایت درجہ مستحب فعل ہے(شرح مسلم) نبی کریم سے عرفہ کے روزے کے متعلق دریافت کیئے جانے پر فرمایا: ” گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے“۔

۳۔ کثرت سے عمل صالح انجام دینا جیسے نفلی عبادتیں، روزہ، خیرات، تلاوت اور صلۂ رحمی وغیرہ۔

۴۔ زیادہ سے زیادہ سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالہ الااللہ، اللہ اکبر کہتے رہنا۔

آپ کا ارشاد ہے: ” ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی پاکی، بڑائی، حمد وثناءیبان کرو اور اس کی بندگی وعبودیت کا اظہار کرو“۔

(شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا)

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ ایام حج میں منی کے اندر اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیر پڑھا کرتے تھے اور اس طرح مسجد میں موجود لوگ اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے ان کی آواز سن کر پڑھا کرتے تھے پھر پورا منی ان آواز سے گونج اٹھتا تھا۔(امام بخاریؒ نے اس حدیث کو معلق بصیغۂ جزم روایت کی ہے)

آج ہماری بڑی ذمہ داری ہے کہ اس فراموش کردہ سنت کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کریں جبکہ فی زمانہ اکثر وبیشتر لوگوں نے اسے چھوڑ رکھا ہے۔

 

۵۔ قربانی کی تیاری:

رسول اللہ کا ارشاد ہے: ” جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور جس کسی نے  بھی قربانی کرنے کی نیت  کی ہو تو پھر اسے اپنے بال کتروانے اور ناخن تراشنے سے باز رہنا چاہیے(مسلم شریف)

خلاصہ کلام:

دوستو! اس سے قبل کہ یہ قیمتی لمحے رخصت ہوجائیں، انہیں غنیمت جانو تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے اپنے دامن بھر سکو، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ” اپنے رب کی مغفرت اور جنت کےلیئے جلدی کرو جس کی وسعت آسمان وزمین کے برابر ہے اور جسے پرہیز گار بندوں کی لیئے تیار کیا گیا ہے“۔ (آل عمران)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے عمل کی توفیق بخشے جو اس کی محبت اور اس کی رضا کا باعث ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کے نیک اعمال کو شرف قبولیت بخشے ۔

وجزاکم اللہ خیرا

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي