نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  وحدت ادیان ) 

Post
14-7-2012 1536  زيارة   

 

 

 

علمی مقالات اور فتاوی کے لیے دائمی کمیٹی مملکت سعودی عرب سے صادر شدہ فتوی نمبر ۱۹۴۰۲

تاریخ   ۲۵۔۱۔۱۴۱۸  ھجری

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے درود وسلام ہو اس عظیم ترین ہستی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں ، ان کے آل عیال وصحابہ کرام اور ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک ان کی اتباع وپیروی کرتے رہیں گے۔

اس کے بعد!

علمی مقالات اور فتاوی کے لیے دائمی کمیٹی نے ان تمام سوالوں کا جائزہ لیا جو ان کو حاصل ہوئیں یا وحدت ادیان کے تعلق سے وسائل اعلام میں جو آراء وافکار اور مقالات نشر کیئے جاتے ہیں بہ ایں طور کہ اسلام ،یہودیت اور نصرانیت کو ایک دین کا نام دے دیا جائے اور اس کے تناظر میں مدارس وجامعات ، ایئرپورٹ اور عام نشست گاہوں کی چہاردیواری میں ایک ہی ساتھ مسجد، کنیسہ یعنی گرجہ گھر اور معبد کی یعنی عبادت کی جگہ بنادیا جائے، قرآن کریم ،تورات اور انجیل ایک ہی غلاف میں چھاپا جائے۔ اس دعوت کو عام کرنے کے لیے مشرق ومغرب میں جو کانفرنسیں اور اجلاس منعقد کیئے جاتے ہیں سبھوں کا بنظر غائر بحث وتحقیق کرنے کے بعد فتوی کمیٹی نے مندرجہ ذیل قرارداد پاس کیا:

(۱)صحیح اسلامی عقیدہ: جو کہ ہم سے مخفی وپوشیدہ نہیں ، اور جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس روئے زمین پر دین اسلام کے سوا کوئی دین برحق نہیں نیز دین اسلام کو آخری دین ہونے کا شرف حاصل ہے اور سابقہ تمام شریعتوں اور اقوام وملل کے لیے ناسخ ہے اور اس طرح  اس روئے زمین پر اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہ گیا جس کے ذریعہ اللہ کی عبادت وبندگی کی جائے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِيناً فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ [آل عمران:85].

ترجمہ:جو اسلام کے سوا کوئی دین  اپنائے گا تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا" اور محمد کی بعثت کے بعد اسلام وہی ہے جو آپ دے کر مبعوث کیئے گئے نہ کہ سابقہ ادیان وملل۔

(۲)صحیح اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم رب العالمین کی طرف سے آخری نازل شدہ آسمانی کتاب ہے جو سابقہ نازل شدہ تورات، زبور، انجیل وغیرہ ساری کتابوں کے لیے ناسخ ہے اور ان پر نگراں بھی ، گویا قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی آسمانی کتاب بھی نہیں ہے جس کے ذریعہ اللہ کی عبادت وبندگی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِناً عَلَيْهِ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ عَمَّا جَاءكَ مِنَ الْحَقِّ ﴾ [المائدة:48].

ترجمہ: ( اے  پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا"۔

(۳) اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ تورات وانجیل قرآن کریم کے نرول کے بعد منسوخ ہوگئیں اور مرور ایام کے ساتھ تحریفات اور تغیرات اور کمی وزیادتی کا شکار ہوگئیں، جس کا ذکر قرآن کریم کی بہت ساری آیتوں میں آیا ہے بطور مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ﴿ فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِ وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىَ خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلاً مِّنْهُمُ [المائدة:13]،

ترجمہ: پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت نازل فرمادی اور ان کے دل سخت کردیئے کہ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے، ان کی ایک نہ ایک خیانت پر تجھےاطلاع ملتی ہی رہے گی، ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں۔(سورۂ مائدہ:۱۳)

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـذَا مِنْ عِندِ اللّهِ لِيَشْتَرُواْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ [البقرة:79]

ترجمہ: ان لوگوں کے لیے ویل تباہی وبربادی ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کمانے ہیں، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل(ہلاکت) اور افسوس ہے۔(سورۂ بقرہ: ۷۹) اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [آل عمران:78].

ترجمہ:اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں۔

معلوم ہوا کہ جو آسمانی کتابوں میں تعلیمات اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں وہ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی منسوخ ہوچکی ہیں جبکہ ان کے علاوہ بہت ساری چیزیں تحریف وتبدیل کا شکار ہوگئیں ہیں، آپ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے حضرت عمر ؓ کے پاس ایک صحیفہ دیکھا جس میں تورات سے کچھ چیزیں تھیں تو آپ نے فرمایا: خطاب کے صاحبزادے! کیا تجھے میرے بارے میں شک ہے؟ کیا میں نے اس کی جگہ صاف وشفاف اور واضح تعلیمات نہیں لایا، اگر میرے بھائی حضرت موسی ، حیات ہوتے تو میری پیروی کیئے بغیر ان کو چھٹکارا نہ ملتا"( ا سے احمد اور دارمی وغیرہ نے روایت کیا ہے)

(۴)صحیح اسلامی عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی ورسول محمد عربی آخری نبی ورسول ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ [الأحزاب:40].

ترجمہ:محمد تم میں سے کسی کے والد نہیں بلکہ وہ تو اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں"

محمد کے سوا اب کوئی ایسا رسول نہ رہا جس کی اتباع واجب ہو، اور اگر انبیاء ورسل میں سے بھی کوئی باحیات ہوتا تو محمد کی پیروی کیئے بغیر ان کو رستگاری نہ ملتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ [آل عمران:81].

ترجمہ: اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

 یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب آخری زمانہ میں تشریف لائیں گے تو وہ بھی محمد ہی کے پیروکار ہونگے اور انہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ [الأعراف:157].

ترجمہ:وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

جب کہ صحیح اسلامی عقیدہ یہ بھی ہے کہ آپ کی بعثت تمام لوگوں کے لیئے تھی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ [سبأ:28]،

ترجمہ:ہم نے آپ کو ساری انسانیت کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا لیکن بہترے لوگ اسے نہیں جانتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : ﴿ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً [الأعراف:158]

ترجمہ:آپ کہہ دیں کہ اے لوگو! میں تم سبھوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

صحیح اسلامی عقیدہ ہے کہ یہود ونصاری وغیرہ  میں سے جو کوئی بھی اسلام قبول نہیں کرتا وہ کافر ہے، اسے کافر کا نام دیا جائے گا، وہ اللہ کا ، اس کے رسول کااور مومنوں کا دشمن ہے اور وہ جہنمی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ [البينة:1].

ترجمہ:اہل کتا ب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے ولے نہ تھے۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ [البينة:6].

ترجمہ:"بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔وغیرہ۔

صحیح مسلم کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا: { والذي نفسي بيده، لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني، ثم يموت ولم يؤمن بالذي أُرسلت به إلا كان من أهل النار }.

ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ، اس امت کا کوئی شخص میرے بارے میں سنے گا، خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر اسی حالت میں مرے گا اور مجھ پر ایمان نہ لائے گا تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا"۔

اس لیے جو جو یہودی ونصاری کو کافر نہ قرار دے گا تو وہ خود کافر ہے، شریعت کے اس قاعدہ کی روشنی میں " جو کافر نہ مانے تو وہ خود کافر ہے"۔

(۶) مذکورہ بالا جملہ اصول واعتقادات اور شرعی حقائق ومعارف کے پیش نظر یہ ظاہر ہوگیا کہ وحدت ادیان کی طرف دعوت دینا اور ان کو ایک قالب میں ڈھالنا دراصل ناپاک سازش ہے جس کے پس پردہ حق وباطل کو خلط ملط کرنا، اسلام کو منہدم کرنا، اس کی بنیاد کمزور کرنا اور مسلمانوں کو ارتداد کی دعوت دینا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرمادیا ہے: ﴿ وَلاَ يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّىَ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُواْ [البقرة:217].

ترجمہ: یہ برابر تم سے قتل وقتال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کے اختیار میں ہو تو تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں "۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿ وَدُّواْ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُواْ فَتَكُونُونَ سَوَاء [النساء:89].

ترجمہ: وہ تو چاہتے ہی ہیں کہ اس جیسے تم بھی کفر کی راہ اختیار کرلو تاکہ تم بھی ان جیسے ہوجاؤ\'\'۔

(۷) اس بدترین دعوت کے آثار میں سے اسلام وکفر ، حق وباطل ، بھلائی وبرائی کے درمیان فرق کو ختم کرنا اور مسلمانوں اور کافروں کے درمیان نفرت کے بندھ کو توڑنا ہے تاکہ ولاء وبراء (ولاء صاحب ایمان سے محبت ومودت اور براء کافر سے براءت وعداوت) کا نام ونشان مٹ جائے اور اللہ کی سرزمین سے اس کے کلمہ کی سربلندی کے لیئے جنگ وجدال وجہاد کا خاتمہ ہوجائے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ قَاتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ [التوبة:29].

ترجمہ: جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

اور اللہ تعالی کا فرمان: ﴿ وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَآفَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ [التوبة:36].

ترجمہ: اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔

(۸) اگر وحدت ادیان کی طرف دعوت کسی مسلمان کی طرف سے ہوتو دراصل یہ اس کے دین اسلام سے ارتداد کی صریح دلیل ہے کیونکہ یہ صحیح اسلامی عقیدہ کے بالکل برعکس ہے ، جو اللہ کے کفر کا غماز ہے ، قرآن کریم کی صداقت باطل قرار دیتا ہے جس نے سابقہ جملہ آسمانی کتابوں کو منسوخ کردیا ، اسی طرح اسلام کے سابقہ ملل وادیان اور شریعتوں کے لیئے ناسخ ہونے کی اس میں نفی ہے، بہ ایں طور یہ شرعی ناحیہ سے ناقابل قبول فکر ہے اور قرآن وسنت اور اجماع کی روشنی میں یہ حرام ہے۔

(۹) مذکورہ بیانات کی روشنی میں مندرجہ ذیل باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں:

(۱)کسی ایسے مسلمان کے لیئے جو اللہ کو اپنا رب ، اسلام کو اپنا دین اور محمد کو نبی ورسول مانتا ہو اس غلط فکر کی طرف دعوت دینا ، اس پر کسی کی ہمت افزائی کرنا اور مسلمانوں کے درمیان عام کرنا جائز نہیں ہے چہ چائے کہ اس کو گلے لگائے، اس کے لیئے منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت کرے اور ان کی مجلسوں کی طرف اپنی نسبت کرے۔

(۲)مسلمانوں کے لیئے تورات اور انجیل کی طباعت علیٰحدہ کرنا جائز نہیں ہےتو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ ایک غلاف میں ان کو چھپایا جائے، جس نے ایسا کیا یا اس کی طرف دعوت دی تو وہ کھلی گمراہی میں ہے کیونکہ یہ حق اور محرف یا منسوخ حق ، تورات وانجیل کے درمیان جمع کرنے کے  قبیل سے ہوگا۔

(۳)اسی طرح کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ کہ مسجد ، کنیسہ یعنی گرجہ گھر اور معبد(کافروں کی عبادت گاہ) کی ایک ساتھ ایک ہی جگہ تعمیر کرنے کی دعوت قبول کرے، کیونکہ اس میں اس بات کا اعترا ف ہے کہ اسلام کے علاوہ دوسرے دین کے ذریعہ بھی اللہ کی عبادت کی جاسکتی ہے اور اسلام کا جملہ ادیان وملل پر غالب ہونا ضروری نہیں ہے اور اس بات کی طرف بھی دعوت ہے کہ اس روئے زمین پر رہنے والوں کے لیئے تین ادیان ہیں جن میں سے کسی کو بھی اپنایا جاسکتا ہے ، جو اپنی قدیم حالت پر باقی ہیں اور اسلام گزشتہ اقوام وملل اور ادیان کے لیئے ناسخ ہیں، بلاشبہ یہ عقیدہ یا اس کا اقرار یا اس پر رضا مندی کفر وگمراہی ہے کیونکہ یہ قرآن کریم ، سنت مطہرہ اور مسلمانوں کے اجماع کا صریح مخالف ہے اور اس بات کا اعتراف ہے کہ یہود ونصاری کی تحریفات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک وصاف ہے اسی طرح گرجا گھروں کو اللہ کے گھروں کا نام دینا جائز نہیں ہے اور یہ بھی کہ اہل کنائس ان میں صحیح عبادت کرتے ہیں جو اللہ کے نزدیک قبول ہوں، کیونکہ یہ دین اسلام کے علاوہ کی عبادت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِيناً فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ [آل عمران:85]

ترجمہ: جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اپنائے گا تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا\'\'۔ بلکہ یہ تو ایسے گھر ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے ، ہم اللہ تعالیٰ سے کفر اور اہل کفر سے پناہ مانگتے ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے مجموع الفتاوی (۱۲۴۔۲۲) میں کہا ہے کہ " کنائس وبیع یعنی گرجہ گھر اور معبد گاہیں اللہ کےگھر نہیں ہے بلکہ اللہ کے گھر تو مسجدیں ہیں ، اور کنائس اور معابد تو ایسے مقامات ہیں جہاں اللہ کا کفر کیا جاتا ہے گرچہ وہاں کچھ ذکرواذکار بھی ہوتے ہیں ، گویا گھر صاحب گھر کے تابع ہوا کرتا ہے اور اس کے پجاری کافر ہیں تو گویا یہ کفار کی عبادت کرنے کے گھر ہیں"۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ کفار کو عموما اور اہل کتاب کو خصوصا کتاب وسنت کی صریح دلیلوں کی روشنی میں اسلام کی دعوت دینا واجب ہے جو کہ مکمل اچھی طرح بیان کرنے اور بحسن وخوبی بحث ومباحثہ کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ کی شریعتوں میں بغیر کسی طرح کے تنازعہ کیئے بغیر ہی ان کو اچھی طرح اسلام پیش کرکے ان کو قانع کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوتے چلے جائیں یا ان پر حجت قائم کیا جاسکے تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہو  وہ دلیل کی روشنی میں ہلاک ہو اور جس کو زندہ رہنا ہو وہ بھی دلیل کی روشنی میں زندگی بسر کرے ، اللہ کا فرمان ہے:

﴿ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّهِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ [آل عمران:64]

ترجمہ: کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں۔

رہا معاملہ کہ ان کے خواہشات کے مطابق ان کے اہداف ومقاصد کی پیروی کی جائے ان سے ہم کلام ہوتے وقت اور ان سے بحث ومباحثہ کرتے وقت تاکہ ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو اور اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجے اور ایمان کا نام ونشان مٹتا چلاجائے تو یہ سراسر باطل ہے، جس سے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول، اور مومنین ہرگز راضی نہیں ہوسکتے، اور اللہ تعالیٰ ہی سے ہم مدد کے طلبگار ہیں جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ [المائدة:49].

ترجمہ: اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے۔

فتوی کمیٹی مذکورہ بالا امور بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو عموما اور اہل علم کو خصوصا اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، اس کے خوف سے ہر وقت لرزاں وترساں رہنے، اسلام کی حمایت کرنے، کفر ، اہل کفر اور گمراہ کن دعاۃ سے مسلمانوں کے عقیدہ کو محفوظ رکھنے کی وصیت کرتی ہے اور وحدت ادیان کے کفریہ اور گمراہ کن عقیدے سے اس کے دام فریب میں آنے سے ڈراتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ کے طلبگار ہیں ہر ایسے مسلمان سے جو مسلمانوں کے ممالک میں اس کو لانے اور اس کو مروج کرنے کا سبب بنے، ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگوہیں ، اس کے اسماء حسنی اور عمدہ وبلند وبالا صفات کا حوالہ دیتے ہوئے ، کہ ہم تمام لوگوں کو ہر طرح کے فتنہ وفساد سے اپنے حفظ واماں میں رکھے ، ہم کو دلیل وبرہان کی روشنی میں اسلام پر قائم وثابت قدم رکھے یہاں تک ہم اللہ سے ملیں اور وہ ہم سے خوش ہو، اللہ کی توفیق سے مکمل ہوا۔

درود وسلام ہو ہمارے آخری نبی حضرت محمد ، ان کے آل وعیال اور جملہ اصحاب پر۔


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي