نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  یوم عاشوراء، روز خوشی وشادمانی ) 

Post
14-7-2012 1476  زيارة   

 

 

رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراءکے روزے کی بابت فرمایا:

”گذشتہ ایک سال کے گناہ کا کفارہ ہے۔“

 

برادران اسلام! یومِ عاشوراءوہ مبارک اور عظیم دن ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے ہمیں نیک اعمال کرنے کی تعلیم دی ہے تاکہ اس کے زریعہ ہم رب تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرسکیں اور وہ عمل روزہ ہے۔ ابن عباس ؓ راوی ہیں فرماتے ہیں:

نبی کریم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہود کو عاشوراءکے روز کا روزہ رکھتے ہوئے پاکر ان سے پوچھا کہ یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ یہ ایک بہت ہی اچھا دن ہے، یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی تھی۔ اس لیئے موسی ؑ اس دن روزہ رکھتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، پھر تو میں تم سے زیادہ موسی ؑ کا حقدار ہوں۔ اس طرح آپ ﷺ نے بھی روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کرام ؓ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ (متفق علیہ)

اس طرح سے نبی ﷺ نے یہود کی مخالفت کرنے کا بھی حکم دیا کہ عاشوراءسے پہلے ایک روزہ (تاسوعاء/ نویں محرم) رکھا کرو۔

ابن عباسؓ راوی ہیں فرماتے ہیں: کہ بنی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر آئندہ سال میں بقید حیات رہا تو دس محرم کا روزہ بھی رکھوں گا(مسلم شریف)

فائدہ:

وجہ تسمیہ: عاشوراءکو اس لیئے عاشوراءکہاجاتا ہے کہ یہ دن مہینے کی دسویں تاریخ میں آتا ہے جبکہ تاسوعاءکو تاسوعاءاس لیئے کہاجاتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی مہینے کی نو تاریخ کو آتا ہے اور ثاموناءاس لیے کہاجاتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی ماہ میں آٹھویں تاریخ کو آتا ہے وغیرہ۔

 

دینی بھائیو! ارشاد الٰہی ہے : نصیحت کیا کیجئے کہ بے شک نصیحت صاحب ایمان لوگوں کے لیئے فائدہ مند ہے (الذاریات) اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ” دین تو نصیحت کا نام ہے“ (مسلم شریف)

اسی خیال اور جذبے کے ساتھ ہم اپنے دینی بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں چند باتیں پیش کرنا چاہتے ہیں:

 

(۱) یوم عاشوراءخوشی اور مسرت کا موقع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی روز اپنے دشمن فرعون کو غرقاب کرکے اپنے پیغمبر موسی ؑ کی مدد فرمائی اور انہیں فتح نصیب ہوئی۔ اسلام میں اس کی قطعی گنجائش نہیں ہے کہ غم واندوہ ، ماتم اور آہ وفغاں کا کوئی طریقہ ایجاد کیا جائے چہ جائے کہ کوئی آدمی اس دن اپنے گریبان چاک کرے اور چہرے نوچے اور زمانہ جاہلیت کی پکار اور نعرے لگائے۔

ہمارے حبیب ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: وہ ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے چہرے نوچے اور گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے(متفق علیہ)

نیز آپ کا ارشاد ہے:

”میں چیخنے چلانے والی عورت ، بال مونڈنے اور نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورت سے بری ہوں“ (متفق علیہ)

 (۲) یوم عاشوراءاور اس طرح ماہ محرم کے دوسرے دن ان عظیم (پرعظمت) اور بابرکت دنوں میں سے ہیں جن میں ایک مسلمان کو زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی فرما ں برداری کے کام، عبادت وبندگی اور نیک اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے اور دوسری طرف ان دنوں میں نافرمانی کے کام سے بہت زیادہ پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ دن ان چار مہینوں کے دنوں میں سے ہیں جن میں جنگ کرنا حرام ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے” تم ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم مت کرو“ (سورۂ توبہ)

پیارے ساتھیو! کچھ لوگ ایسے بھی ہیں  جنھوں نے (اللہ تعالیٰ ہمیں ، انہیں اور تمام مسلمانوں کو صحیح شعور عطا فرمائے) اس عظیم الشان موقع کو چیخ وپکار، گالی گلوج اور صحابہ کرام نیز ازواجات مطہرات جو مومنوں کی مائیں ہیں کو لعن طعن کا موقع بنادیا ہے(رضی اللہ عنہیم اجمعین)

اس لئے آخر میں لازمی طور پر اس کا اظہار کردینا ضروری ہے کہ ہر آدمی کو یہ حقیقت معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ کا م کبیرہ گناہ ہیں اگر ان کا تعلق عام مسلمانوں سے ہوں۔

پھر آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر برے اور مذموم کاموں کا تعلق اس عظیم محسن انسانیت سے ہو جن کی حیثیت یہ ہے کہ وہ تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل ہیں علیہم الصلاة والسلام۔ اور ان کی شان یہ ہے کہ یہ لوگ رسول ﷺ کے ساتھی (صحابۂ کرامؓ) ہیں ۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ کی ، اس کے فرشتے کی اور تمام مسلمانوں کی لعنت ہو“۔ (شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے)

آپ ﷺ سے یہ بھی مروی ہے” مومن آدمی نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے ، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش گو اور نہ بدگو ہوتا ہے“ (صحیح بحکم شیخ البانی)

 

اختتامیہ: ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن فرعون کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی مدد فرمائی اس خوشی میں اور رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کے طور پر عاشوراءکا روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بے شک وہی اس کا مالک اور اس پر قادر ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کی عبادت قبول فرمائے۔


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي