نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  ماہ شعبان اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ) 

Post
16-7-2012 1651  زيارة   

 

یہ ماہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے تحفوں میں سے ایک تحفہ اور اس کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ، حضرت اسامہ بن زید ؓ راوی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول سے ردیافت کیا، اے نبی ! میں نے آپ کو تمام مہینوں میں کسی مہینہ بھی اتنا روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا آپ ماہ شعبان میں روزہ رکھتے ہیں؟ آپ نے جواب میں فرمایا: یہ مہینہ ماہ رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے عام طور پر لوگ اس ماہ سے بے خبر رہتے ہیں اس لئے مجھے یہ پسند ہے کہ روزہ کی حالت میں میرا عمل اللہ تعالیٰ کو پیش کیا جائے۔ (شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے)

 

وجہ تسمیہ:

(شعبان نام رکھنے کی وجہ) مجرد ایک مہینہ کا نام ہے۔

اسے اس نام سے موسوم کرنیکی ایک وجہ یہ ہے کہ اہل عرب پانی کی تلاش  میں منتشر (بکھر) ہوجاتے تھے اور لغت میں” شعب“ کے معنی بکھرنے اورپھیلنے کے آتے ہیں ۔ اس کی دوسری علت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لوگ غاروں میں پھیل جاتے تھے اور تیسرا سبب یہ بھی بیان کیاگیا ہے کہ چونکہ یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان رونما ہوتا ہے اس لئے اسے شعبان کہا گیا ہے اور اس کی جمع شعبانات اور شعابین آتی ہے۔

 

روزہ شعبان اور سائنسی انکشاف

جدیدسائنس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ روزہ رکھنے سے ابتدائی دنوں میں بدن پہلے سے موجود احتیاطی فیٹ(FAT) اور پروٹین وغیرہ استعمال کرنا شروع کردیتا ہے تاکہ کھانے پینے سے باز رہنے کہ وجہ سے جو کمی آئی ہے اس کی تکمیل کرسکے، اس کی وجہ سے قضائے حاجت سے قبل خون کے اندر زہر پھیل جاتے ہیں جسے (Adrenalian Hormone) کہاجاتا ہے۔

جسکی وجہ سے روزہ دار کچھ عوارض کا شکار ہوجاتا ہے اور کچھ ظاہری علامتیں شروع ہوتی ہیں جیسے درد سر، کمزوری کا احساس،جلد غصہ ہونا، مزاج کی بے اعتدالی وغیرہ۔ بسااوقات گالی گلوج پر اترآتا ہے اور کبھی روزہ چھوڑنے کے لئے بھی مجبور ہوجاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزہ کے چند دنوں بعد ہی جیسے جیسے ہارمون(Hormone) کا تناسب خون کے اندر فطری حالت میں واپس آجاتا ہے ویسے ہی یہ تمام عوارض اور مشکلات دور ہوجاتی ہیں(تجربے سے روزہ داروں کے تئیں یہ بات ثابت ہوچکی ہے)

اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ماہ شعبان کا مسنون روزہ اس لحاظ سے ماہ رمضان کے روزے کے لئے راہ ہموار کرتا ہے تاکہ انسان اس ماہ (رمضان) میں کسی بھی تکلیف اور مصیبت کا شکار نہ ہوسکے۔ اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ نبی کریم انہیں باتوں کے پیش نظر شعبان میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھا کرتے تھے اور اس کی حکمتوں اور فوائد میں سے یہ بھی ایک بہت بڑا جسمانی وروحانی فائدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کو اس کا صحیح علم ہے۔

نبی کریم اور ماہ شعبان

ماں عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ماہ شعبان میں اتنا زیادہ روزہ رکھا کرتے تھے کہ ہمیں گمان ہوتا تھا کہ اب آپ روزہ رکھنا بند نہ کریں گے اس طرح اس قدر بے روزہ رہا کرتے تھے کہ ہم سمجھنے لگتے تھے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اور میں نے آپ کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرےمہینے کا مکمل روزہ رکھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی ماہ شعبان سے زیادہ کسی دوسرے مہینے کا روزہ رکھتے دیکھا۔(بخاری شریف)

اور ماں عائشہ ؓ ہی سے دوسری روایت ہے جس میں فرماتی ہیں کہ رسول کو شعبان میں روزہ رکھنا نہایت درجہ پسند تھا پھر آپ اسے ماہ رمضان سے ملا دیتے تھے۔

پندرہوں شعبان کی شب(رات)

آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عزوجل پندرہویں شعبان کی رات اپنی مخلوق پر نظر فرماتا ہے اور شرک کرنے والی اور حسد وبغض والے بندوں کو چھوڑ کر باقی سب کی مغفرت فرمادیتا ہے (صحیح ابن ماجہ)

 

 ماہ شعبان کے آخری حصے میں روزہ رکھنے کا حکم:

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی نے ارشار فرمایا:

رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو ہاں اگر کوئی نفلی روزے پہلے سے رکھتا ہو تو رکھ لے (متفق علیہ)

تشریح: یعنی اگر کوئی آدمی حسب عادت نفلی روزے جیسے پیر اور جمعرات کے روزہ رکھتا ہو تو اس کے لئے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

پندرہویں شعبان کی چند بدعات وخرافات:

۱۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ پندرہویں شعبان کی شب مجلس منعقد کرنا سنت ہے (خواہ جس شکل میں ہو) خواہ عبادتوں کی صورت میں ہو یا مدحیہ اشعار وقصائد کی شکل میں یا کھانا کھلانے اور سبیل لگا نے کی صورت میں۔

۲۔ اس رات میں ہزار رکعتوں والی نماز (صلاة الفیہ) پڑھنا، اسے براءت والی (صلاة البرات) نماز بھی کہا جاتا ہے۔

۳۔ اسی طرح چودہ یا بارہ رکعت یا چھ رکعت نماز پڑھنا۔

۴۔ نماز عشاءمیں سورۂ یس یا دوسری سورتیں خاص تعداد کیساتھ پڑھنا مثلا سورۂ اخلاص یا اس رات خاص دعا کا اہتمام کرنا۔ دعا کی قبولیت کے لئے سورۂ یس کی تلاوت یا دعاءسے قبل دو رکعت نماز کی شرط بھی لگائی جاتی ہے۔

۵۔ خصوصیت کے ساتھ اس دن روزہ رکھنا (ایام بیض اس سے مستثنیٰ ہے) یا اس دن خاص کرکے صدقہ وخیرات کرنا یا یہ خیال کرنا کہ یہ رات فضیلت میں شب قدر کی برابر ہے۔

 

پندرہویں شعبان کی شب میں جشن منانے کا حکم:

شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ سے پندرہویں شب میں جشن منانے اور رات میں خاص نماز سے متعلق دریافت کیا گیا؟

آپ نے جواب میں فرمایا: پندرہویں شعبان کی شب سے متعلق کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہے، اس باب میں جو بھی حدیث وارد ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا موضوع ہے، اس شب کی کوئی اصلیت اور خصوصیت نہیں ہے، اس میں نہ کوئی خاص نماز، خاص ذکر اور خاص عمل ثابت ہے، ہاں جو بعض اہل علم نے اس رات سے متعلق بیان کیا ہے ان کا قول ضعیف ہے، لہٰذا اس رات سے کسی خاص عبادت کو جوڑنا درست نہیں ہے۔۔یہی صواب بھی ہے اور توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اھ۔[الفتاوی: ج۔۱]

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي