نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  دنیا کا ایک سفر۔۔۔ماضی وحال کی روشنی میں ) 

Post
6-8-2012 1425  زيارة   


 

(یہ پورے طور پر ایک فرضی مضمون ہے، مگر اس کے خیالات صحیح حالات وواقعات کی ترجمانی کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: لوگوں کے درمیان صلح وصفائی کا کام کرنے والا جھوٹا نہیں کہلاسکتا، کیونکہ وہ خیروبھلائی کے مقصد سے ہی کوئی بات کرتا ہے)۔[بخاری شریف]

ایک دن کی بات ہے میں حسب معمول فجر اور اشراق کی نماز کے بعد مسجد سے گھر واپس آیا  اور روزانہ کی طرح اخبار دیکھنے کے لیے مطالعہ کی میز پر بیٹھ گیا، زیادہ تر خبریں بُری خبروں پر مشتمل اور پریشان کن تھیں، حکومتی خبروں کا صفحہ پارلیمینٹ کے اختلافات سے پُر تھا جبکہ دوسرے صفحے بدعنوانی، بدنظمی، چوری، رشوت اور مالی خیانت اور شرپسند عناصر سے بھرے تھے۔اندرون ملک کے حالات پڑھ کر تو جیسے تکلیف کی وجہ سے دل ہی بیٹھ گیا، کیونکہ عدالتوں میں آپس میں لڑنے جھگڑنے والوں کی وجہ سے پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہے، ایک طرف طلاق اور نافرمانی کے مقدمے ہیں ، دوسری طرف والدین کی نافرمانی اور رشتہ داروں کے قطع تعلق کے مقدمے ہیں تو کہیں پڑوسیوں کے تنازعے ہیں۔ اسی طرح دسیوں سیکڑوں اور ہزاروں دوسرے مقدمے ہیں، مثلا قانون شکنی، جھوٹا اور غلط معاہدہ ، سڑے گوشت ، غیر قانونی غذائی مواد اور اشیائے صرف ، ٹریفک کے حادثات وواقعات ، منشیات کے اسمگلر ، نشہ خور اور شرابی وخودکشی۔

بین الاقوامی اورسیاسی صفحہ دیکھ کر تو ہوش ہی اڑ گیا۔کہیں گھمسان کی جنگ ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں  اور ہزاروں کی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے ، گرفتاری اور جیل کی خبریں ہیں، بحران اور مسائل ہیں، قدرتی آفات کی خبریں ہیں جیسے زلزلے ، طوفان ، آندھی اور سونامی۔

اقتصادیات ومعاشیات کا صفحہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے، معاشی بحران کی خبریں ہیں ، اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ ہے، شیئربازار متزلزل ہے ، مہنگائی آسمان چھورہی ہے، اشیائے صرف اور خوراک قلت اور بحران کا شکار ہے، اسی طرح کمپنیوں کی عجیب وغریب خبریں ہیں۔

کھیل کے صفحہ سے نظر بچا کر نکل گیا کیونکہ آج کل کھیل میں شرعی اصول وضابطے کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہے، فحاشی اور عریانیت اپنے عروج پر ہے، وقت کے ضیاع کے ساتھ دولت کی بربادی ہے ، کھیل ہے جس میں فائدہ کا کوئی پہلو نہیں صرف نقصان ہی نقصان ہے، اور قومیں اس کے پیچھے نشہ میں چور ہیں۔

صحیح بات یہ ہے کہ اخبار کے مطالعہ سے فارغ ہوکر میں نے محسوس کیا کہ جیسے زندگی میرے لیے ایک پہاڑ اور ایک بڑی مصیبت بن چکی ہے۔

اچانک میرے خیال میں اسلامی معاشرہ کی تصویر آگئی وہ معاشرہ جس کے دن عروج وترقی کے دن تھے جو خیر قرون کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا زمانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ، ہاں ! مگر اب اُس زمانے کے حصول کا راستہ کیا ہے؟ وہ زمانہ تو صدیوں پیشتر گذر گیا او ختم ہوگیا ، ہمارے اور اس عہد ِمیمون کے درمیان طویل فاصلہ ہے جو ہزار سال سے زیادہ پر مشتمل ہے۔

مگر میں نے سائنسی نظریہ پر مبنی کہانیوں میں ایک آلہ کے بارے میں پڑھا ہے جو انسان کو پوری تاریخ  کی سیر کراسکتا ہے خواہ انسان ماضی کو دیکھنا چاہے یا اپنے مستقبل کو، پھر آپ ہی بتائیں کہ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ہم سب مل کر اس کا ایک تجربہ نہ کریں؟ اس کا راستہ بہت ہی آسان اور مختصر ہے، صرف اتنی سی بات ہے کہ بٹن دبانا ہے تاکہ یہ آلہ آپ کو ماضی یا مستقبل میں سے جدھر کا آپ کا رُخ ہو وہاں پہنچادے، ایک شرط ہے کہ اپنا حلیہ اور شکل وصورت درست کرلیں تاکہ اس زمانے کا کوئی آدمی آپ کو پہچان نہ سکے اور آپ کا سفر خراب نہ ہوجائے ، پھر تو اس کا حل یہی ہے کہ :۱۔ اپنا کپڑا ٹخنوں سے کچھ اوپر کرلیں، ۲۔داڑھی سنت کے مطابق رکھ لیں، ۳۔ فصیح عربی زبان میں بات کریں، ۴۔حق، تواضع اور اخلاق حسنہ کو اپنا ہتھیار بنالیں۔اب آپ روانگی کے لیے بالکل تیار رہیں، شروع کریں ایک ، دو، بسم اللہ ! نکل پڑیں۔۔

الحمدللہ، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ، ہماری سواری بحسن وخوبی خلافت راشدہ کے دارالسلطنت مدینہ نبوی پہنچ گئی(صلی اللہ علیہ وسلم) یہ زمانہ خلیفۂ ثانی عمر فاروق امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ ہے، ہمیں ابتداء مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زیارت سے کرنا چاہیے جوکہ مسنون ہے، ہماری ملاقات مسجد کے راستہ میں ایک آدمی سے ہوئی ، ہم نے سلام کیا، اس نے ہمارے سلام کا جواب بے حد شادمانی کے ساتھ اور والہانہ انداز میں دیا ، ہمارے لیے یہ نئی بات تھی اور جواب میں پورے صیغے اور الفاظ کا خیال رکھا۔ ہم نے دل میں سوچا کہ اس آدمی کی خبروخیریت دریافت کرتے ہیں جب تک مسجد پہنچ جائیں گے، اس نے ہمیں جواب دینے سے پہلے خود ہی ہم سے سوال کردیا۔ آپ لوگ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں؟ ہم نے کہا: دور دراز ملک سے یہاں آئے ہیں ، آپس میں تعارف کے بعد ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں اپنی زندگی ، حالات، احساسات ، خیروعافیت، خوشی ناخوشی، ماضی اور حال کے بارے میں مختصرا بتائیے! وہ شخص گویا ہوا: اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر واحسان ہے کہ اس نے ہمیں نعمت اسلام سے بہرور کیا ہے، دوستو! حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے ہماری زندگی بدترین زندگی تھی، طاقتور کمزور کو اپنا لقمہ بنالیتا تھا، انسانوں کے ساتھ ظلم وبربریت کا سلوک روا رکھا جاتا تھا اور کوئی اس کا یار ومددگار نہ ہوتا تھا، بے انتہا غریبی تھی، جہالت اور ناخواندگی عام تھی، حاکم اور بڑے لوگ ہم پر ظلم کرتے تھے، عدل وانصاف  کا کہیں وجود نہ تھا۔ کوئی آدمی مدد کرنے کے لیے ہمت نہ کرتا تھا۔ہم نکو  بن کر رہ گئے تھے، ہماری کوئی مستحکم حکومت تھی اور نہ ہی ہمارے درمیان رحم وکرم اور الفت کا وجود تھا۔ہماری زندگی اللہ تعالیٰ کے اس قول کی زندہ تصویر تھی ’’فی ظلمات بعضھا فوق بعض‘‘ (تہ بتہ تاریکیوں میں تھے) پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان ، توحید، اور اسلام کی روشنی عطا فرمائی۔

جس میں عاجزی وانکساری صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، عبادت وبندگی صرف اللہ کے لیے ہی ہے، ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے سے محبت اور بھائی چارہ کا  پورا پورا خیال رکھتے ہیں، حقوق اور ذمے داریوں میں برابری  کا خیال رکھتے ہیں، اب ہماری زندگی بہترین زندگی ہوگئی ہے، دولت وخوشحالی کا بول بالا ہے، ہر ایک آدمی آزادی کی سانس لے رہا ہے، زندی کی بنیاد عدل وانصاف پر ہے، ہمارے ساتھ کوئی بھی آدمی کسی طرح کا ظلم نہیں کرسکتا ہے، ظاہری وباطنی طور پر ہماری پوری زندگی اللہ کے تابع اور سپرد ہے۔ اپنی زندگی کو اس شقاوت اور بدبختی سے باہر نکال لیا ہے جس میں پڑا رہنے کے لیے بہت سے افراد ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ، سب سے زیادہ باخبر اور آگاہ ہے، اسکے فیصلے سب سے زیادہ مستحکم ہیں، سب سے زیادہ ہمیں اور ہمارے نفع ونقصان کو جاننے والا ہے، ہماری شریعت، الہٰی شریعت  ہے، جاہل اور کم علم انسانوں کی بنائی ہوئی شریعت نہیں ہے۔۔ لیجیے عنقریب آپ لوگ مسجد میں داخل ہونگے اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے کہ وہ نمازیوں کی امامت کررہے ہیں ، نہ کوئی نگہبان ہے اور نہ ہی دربان۔انہیں کسی سے کوئی ڈر نہیں کیونکہ کبھی کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص آگے آئے اور حکومت وامارت کی ذمے داریوں کو سنبھال لے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: اے عمر! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان جب بھی آپ کو راستہ میں دیکھتا ہے فورا ہی وہ راستہ بدل لیتا ہے ۔(بخاری شریف) ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے،ہر آدمی کو ان کی زندگی کی ہر چیز (چھوٹی یا بڑی)معلوم ہے، ان کی زندگی انتہائی سادہ اور زاہدانہ ہے، مسلمانوں کے بیت المال کے سلسلہ میں وہ اپنے آپ کو یتیم کے ولی جیسا سمجھتے ہیں، اگر ضرورت ہوئی تو اس مال سے گذر اوقات کے لیے لے لیا ورنہ کچھ نہ لیا۔رات میں عوام کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتے ہیں اور دن میں حکومتی ذمے داریاں انجام دیتے ہیں، بہت تھوڑا سو پاتے ہیں، خلیفہ ٔ رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، اپنے بعد آنے والے کو مشقت میں ڈال دیا‘‘(روایت ثقہ) ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ان کی خدمت میں غنیمت کا بڑا مال آیا، اسے دیکھ کر فرمایا: ’’اتنی امانتداری کے ساتھ اپنی ذمہ داری انجام دینے والے یقینا امانتدار لوگ ہی ہیں، یہ سُن کر حاضرین میں سے کسی نے کہا: آپ نے اللہ تعالیٰ کو اس کی امانت پورا پورا سونپا ہے، اس لیے لوگ بھی امانتداری برت رہے ہیں، اگر آپ غفلت برتتے تو یقینا وہ لو گ بھی ایسا ہی کرتے۔(السیاسہ الشرعیہ/  ابن تیمیہ)۔ ہمارا معاشرہ باہمی تعاون اور ایثار وقربانی کے اصول پر قائم ہے ، ہر آدمی خودبخود حق ادا کرتا ہے ، اور اکثر وبیشتر حالات میں دوسرے کے لیے اپنے حق سے دست بردار ہوجاتے ہیں، صرف اجر وثواب کی نیت سے، پورا کا پورا سال گذرجاتا ہے اور عدالت میں کوئی مقدمہ نہیں جاتا۔ ایک آدمی اپنے مال کی زکوۃ لے کر باہر نکلتا ہے، مگر اسے کوئی لینے والا نہیں ملتا، مرد اپنے اہل وعیال کے لیے بہترین انسان شمار ہوتے ہیں، عورتیں اپنے شوہروں کے لیے بہترین بیویاں شمار ہوتی ہیں، شوہر جب بھی اپنے گھر آتا ہے تو خوشی اور سعادت کا ایک نیا انداز محسوس کرتا ہے، جو ہمارے معاشرتی انداز سے یکسر الگ ہوتا ہے، شوہر اور بیوی اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھولتے نہیں (تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لیے اچھا ہو)[صحیح بروایت ترمذی]خواتین ہمیشہ اس حدیث کو اپنے سامنے رکھتی ہیں، اگر میں کسی دوسرے کے لیے سجدہ کو جائز ٹھہراتا تو عورت کو حکم دیتاکہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘ [صحیح البانی]

احباب کرام! اسی وجہ سے میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اس نعمت سے اپنے آپ کو محروم نہ کریں کہ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کی روشنی میں بسر ہو اور ان سے پوچھو جنھوں نے اس کا عملی تجربہ کیا ہے، کہا جاتا کہ ’’حقیقت کا پتہ اسے ہی ہوتا ہے جو خود چکھتا ہے‘‘۔

اب تو ہم مسجد بھی پہنچ گئے اور نماز سے بھی فارغ ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ پر درود بھیجنے کے بعد مدینہ طیبہ کی سڑکوں ، گلیوں اور بازاروں کا ایک سرسری جائزہ لیا، لوگوں کے چہروں پر خوشیاں دیکھیں، بازاروں کو انتہائی معمولی اور سادہ پایا ، جس سے لوگوں کے زہدوتقوی کا احساس ہوتا ہے، یہاں پورے امن وامان کا سایہ ہے ، فریب ، دھوکہ اور جھوٹ کا دور دور تک نام ونشان نہیں، لوگ بڑی آسانی سے بے جھجک کاروبار کررہے ہیں، ان میں زیادہ تر مرد ہیں جو آپس میں سلام وتحیہ کاتبادلہ کررہے ہیں، عورتیں برائے نام ہیں، وہ بھی یا تو اپنے شوہر کے ساتھ یا کسی محرم کے ساتھ، یا خواتین کا قافلہ ہے جو دیکھنے میں کالے کوؤں کا جھنڈ معلوم پڑتا ہے ، پورے طور پر پردہ میں ہیں، کبھی کبھی کوئی ایک آنکھ سے پردہ ہٹاتی ہے تاکہ راستہ دیکھ سکے۔

ہماری یہ سیر فرض نماز کی ادائیگی کے بعد تھی،کچھ دکانیں اب تک نہیں کھلی تھیں کیونکہ دکاندار اب تک نماز سے فارغ ہوکر واپس نہ آسکے تھے، کچھ  نے واپس آکر دوبارہ دکان کھول دی تھی، جو دکانیں بظاہر بند تھیں وہ حقیقت میں اس طرح بند نہ تھیں جیسا ہمارے زمانے میں خیال کیا جاتا ہے، بڑے بڑے تالے چڑھے ہوتے ہیں، کچھ مخصوص کوڈ ہوتے ہیں، کیمرے لگےہوئے ہوتے ہیں اور کمپلیکس کے گیٹ پر سیکوریٹی کا پورا نظم ہوتا ہے، یہاں ایسا کچھ نہ تھا، ان وسائل کا تو ابھی ایجاد بھی نہیں ہوا تھا، کیونکہ ان کا معاشرہ ایسا معاشرہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے اور شرعی حدود کی پابندی کرتا ہے ، دکانوں کے بند ہونے کا مطلب یہ تھا کہ دکاندار لوگ وہاں نہ تھے، بچے بھی کھیلتے اور دوڑتے بھاگتے ہیں ان میں کوئی ڈر اور پرواہ نہیں ، کیونکہ وہ مسلم معاشرہ میں جی رہے ہیں۔

اور ہم نے یہاں کچھ ایسے بار بار پیش آنے والے اثر انداز مناظر دیکھےجن کی جھلکیاں یہ ہیں:

۔ کتنے ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنے خادم کی اس کے کام میں مدد کررہے ہیں۔

۔ کتنے ایسے لوگوں کو دیکھا جو کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں سے نظریں بچا کر فقیروں اور مسکینوں کی مدد کریں۔

۔کتنے ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنے بھائی کو نصیحت کررہے ہیں اور تنہائی میں ان کی رہنمائی کررہے ہیں اور ان کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہیں۔

۔کتنے ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنے بھائی سے معانقہ کررہے ہیں شاید وہ کسی سفر یا کاروبار سے واپس آئے ہوں۔

۔کتنے ایسے تاجروں کو دیکھا جو خریدار کو نصیحت کررہے ہیں کہ پڑوس کی دکان سے سودا خرید لے ، کیونکہ پڑوسی کا سامان ہمارے سامان سے زیادہ عمدہ ہے۔

۔کتنے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بلند آواز سے بازار میں وارد ہونے کی دعا ئیں پڑرہے ہیں۔تاکہ اجر وثواب حاصل کرنے کے ساتھ دوسرے مسلمان بھائیوں کو تعلیم اور یاددہانی کا فریضہ بھی انجام دے سکیں۔

۔دو ایسے آدمیوں کو دیکھا جو بظاہر جھگڑ رہے ہیں، جب ان کے پاس گئے تو معلوم ہوا کہ دونوں بیچنے والے اور خریدنے والے ہیں۔بیچنے والا کم قیمت لینے کے لیے اصرار کررہا ہے جبکہ خریدار زیادہ قیمت دینے کے لیے بضد ہے، اور کہہ رہا ہے کہ نہیں زیادہ لو کیونکہ تمہارا سامان زیادہ عمدہ ہے اور اس کی قیمت زیادہ ہونی چاہیے۔

۔۔۔

یہ چند دلکش او ر دلچسپ مناظر تھے جنھیں ہم نے آپ سے بیان کیا، انھیں دیکھ کر اور پڑھ کر خواہش ہوتی ہے کہ کاش ہم بھی اسی نسل سے ہوتے ، اس سفر نے ہمارے دلوں میں ایک خوشنما نقش چھوڑا ہے اور رشک کی کیفیت پیدا کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمان بنایا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے حالات کے بارے میں ایک درد وکرب میں مبتلا کردیا ہے اور ہمیں اپنے عظیم نقصان کا احساس دلاتا ہے، اور یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے دین، اپنی شریعت، قرآن مجیداور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے دور ہوتے چلے گئے۔

۔۔۔

دوستو! اس خوش بخت اور دلچسپ سفر سے ہم آپ کے پاس واپس آتے ہیں، اُسی آلہ کے ذریعے جس سے ہم نے سفر کا آغاز کیا تھا تاکہ یہ پیغام ہم آپ کے گوش گذار کرسکیں،یہ پیغام جو خلافت اسلامیہ کے دارالسلطنت مدینہ نبویہ سے ہم آپ کو سنا رہے ہیں اور یہ زمانہ خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ ہے۔۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پیغام کے ذریعے ہر مسلمان کو استفادہ کی توفیق فرمائے۔

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي