نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  کھیل کود۔۔ اور فٹبال ) 

Post
6-8-2012 1667  زيارة   


 

پیارے بھائیو!

ایسے وقت میں جب ہزاروں انسان بھوک، فاقہ کشی، بیماری اور جنگوں کے نتیجے میں مررہے ہوں، دنیا کی حکومتیں کھلاڑیوں، ان کی تربیت کرنے والوں(کوچوں) اور فٹبال کے میدانوں پر فٹبال کی لڑائی میں فتح پانے اور ورلڈ چیمپئن شپ کو حاصل کرنے کی دوڑ میں ملینوں ڈالر بہارہی ہیں۔۔۔!!

اگر ہم کسی اسلامی ریاست کی سطح پر دیکھیں تو ان میں سے  پیشتر بھوک مری، سیلاب، بیماریوں، اور جنگی حادثوں کے شکار ہیں، جب کہ یہی ممالک  کو اگر دیکھیں تو دوسری جانب وہ ورلڈ چیمپئن شپ کی دوڑ میں ملینوں ڈالر خرچ بھی کررہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ جب ملکی سطح پر یا ریاستی سطح پر فٹبال چیمپئن شپ کے مقابلوں کا اعلان ہوتا ہے تو مسلمانوں کی بڑی تعداد ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرکے ٹی وی کے اسکرین سے اپنا رشتہ جوڑدیتی ہیں۔۔۔!!! جبکہ دوسری جانب عراق، افغانستان، فلسطین ، اوردیگر ممالک میں مسائل، فقر وفاقہ، بھوک، بیماریوں  اور حادثات کا  شکار ان کے مسلمان بھائیوں کا انہیں کوئی احساس بھی نہیں رہتا ، صومالیہ، نیجر اور سوڈان کی صورتحال پر ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔

اسپورٹس اور اسلام:

پیارے بھائیو اور بہنوں!

اسلام کھیل کود کے ذریعے بدن کو تندرست اور  قوی بنانے سے منع نہیں کرتا ، بلکہ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ فرزندان اسلام جہاں جسمانی لحاظ سے تندرست وقوی ہوں وہیں عقلی، اخلاقی، اور روحانی اعتبار سے طاقتور اور مضبوط ہوں، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

 

‹‹المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف››رواه مسلم

 

’’طاقتور اور توانا مومن کمزور ونحیف مومن سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے‘‘۔[مسلم]

نبی کریم ﷺ سے یہ  بھی ثابت ہے کہ آپ نے دوڑ کا مقابلہ کیا: آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا ، جس میں ایک مرتبہ حضرت عائشہ کی جیت ہوئی اور ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کی جیت ہوئی، [صحیح البانی]

آپ نے اونٹوں کے درمیان  بھی مقابلہ کیا، ایک مرتبہ  کا واقعہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جس کا نام عضباء تھا، کوئی اونٹنی اس کے آگے نہ بڑھتی تھی۔ پس ایک اعرابی نوجوان اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں کو یہ بات بہت شاق گزری یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

‹‹حق على الله أن لا يرتفع شيء من الدنيا إلا وضعه›› رواه البخاري

اللہ پر یہ حق ہے کہ دنیا بھر کی جو چیز بلند ہو اس کو پست (بھی) کر دے۔ [بخاری]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے بیچ بھی مقابلہ رکھا،  اسی طرح آپ نے تیراندازی کے مقابلے میں بھی حصہ لیا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رُکانہ سے جب کُشتی لڑی تو  پہلی ہی جھپٹ میں اسے گرا لیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے۔ان سب اعمال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع اور انکساری عیاں تھی۔

یقینا دین اسلام نے اسپورٹس اور کھیل کود کو جہاں جائز قرار دیا وہیں تمام مسلمانوں کے مفاد کے لیے اس کی ترغیب بھی دی، لہٰذا اسپورٹس اور کھیل کود وغیرہ کی اسلام میں اسی وقت اہمیت وقیمت ہے جب اس سے مسلمانوں کو فائدہ ہو اور وہ اخلاق، تواضع اور محبت پر برقرار رہے۔

لیکن آج ہم اسپورٹس کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو اسپورٹس کا پورا میدان اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر فٹبال میچوں کے وقت معاصی، شرور وفتن اور منکرات کا ایک سیلاب امنڈپڑتا ہے۔ذیل میں ہم فٹبال میچ کے دوران کھلاڑیوں اور ناظرین سے سرزد ہونے والے نقصانات کی جانب اشارہ کررہے ہیں:

شرعی نقصانات:

۱۔ اوقات کا ضیاع: اکثر اذان کا وقت ہوتا ہے ،،نماز قائم ہوجاتی ہے اور میچ جاری رہتا ہے۔ناظرین کا پورا مجمع  اللہ تعالیٰ کے قول :

{ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ﴿٤﴾ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ}   الماعون: 4-5

[تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے۔ جو اپنی نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں ] (سورۃ الماعون) کو بھلا کر میچ  پر ہا ہا کرتا ہوا اور نماز کو نظر انداز کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔۔

۲۔ میچ کے دوران  ستر کھلی رہتی ہے اور مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے۔ناچ گانے ہوتے ہیں،کامیابی کی صورت میں دو جنسوں کے درمیان معانقہ اور بوسہ ہوتا ہے۔۔اور ناکامی کی صورت میں گالی گلوج اور لعن طعن۔

۳۔میچ کے وقت  بعض ایسے قمیص زیب تن کیے جاتے ہیں یا بعض ایسے پرچم بلند کیے جاتے ہیں جن پر صلیب کی تصاویر ہوتی ہیں۔

۴۔فٹبال میچ کے دوران سٹہ بازی عروج پر ہوتی ہے۔ اس میں نہ صرف کھلاڑی شامل ہوتے ہیں بلکہ حکام بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔

۵۔ان میچوں کے دوران کامیاب ٹیم کے اعزاز میں فحش محفلیں سجائی جاتی ہیں، جس میں شراب کے جام گھمائے جاتے ہیں اور بے پناہ مال خرچ کیا جاتا ہے۔

۶۔ شرک اور پت پرستی والی روایات پر عمل کیا جاتا ہے: خاص طور پر اولمپک کھیلوں میں ۔۔!!

قدیم زمانے میں یونان کے دارالحکومت ایتھینز میں یونان کے عظیم دیوتا کا ایک  معبد بنایا گیا اور اس کے ایک جانب میدان تعمیر کیا گیا تاکہ لوگ کھیلوں کے ذریعے اس معبود سے قربت حاصل کرے۔

اس زمانے میں کھیل کود اس معبود کی ایک عبادت تھی، یہاں ہر چار سال بعد اس معبود کی عبادت کے طور پر یونانی عید مناتے تھے۔اہل یونان کے نزدیک یہ مقدس ترین عید تھی۔۔!!!انھوں نے اس پر مشعل جلانے کی رسم بھی جاری کی تھی۔۔جس کا مقصد ان کے معبود باطل کو دائمی علامت دینا تھا۔   

دیکھیئے ! آج اسلامی ممالک کے مردوخواتین کھلاڑی یونان کے اسی معبود باطل کی تعظیم کے لیے سفر کرتے ہیں۔

اولمپک کھیلوں  کی حقیقت :

یہ محض بت پرستی  اور شرک ہے۔۔!! لہٰذا  اے مسلمانو! اس سلسلے میں تمہارا کیا موقف ہو؟؟

۷۔ ان کھیلوں میں مسلمانوں کے امور کو نظر انداز کیا جاتا ہے نہ صرف یہ بلکہ  مسلمانوں کے عالمی مسائل سے غافل  رکھنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔غزہ میں مسلمانوں کی حصار بندی،،، عراقی مسائل،،، افغانستان، کشمیر اور فلپائن میں مسلمانوں کے مسائل پر پردہ ڈالا جاتا ہے  اور کھیل کود کو عالمی سطح پر اہمیت دی جاتی ہے۔اس وقت جب ہم، امت کو مسائل سے دوچار دیکھتے ہیں ہمارے نوجوانوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ( ایسے کپ جس کی کوئی قیمت نہیں )کے خوشی میں رقص وسرور کی محفلیں منعقدکرتے ہیں۔۔۔!!

تنبیہ: یہ بات غور طلب ہے کہ مقبوضہ فلسطین (جسے آج اسرائیل کا نام دیا جارہا ہے)   میں اسپورٹس کی جانب اتنی توجہ نہیں دی جاتی، ہم نے کبھی یہ نہیں سناکہ اسرائیل کی بھی کوئی  فٹ بال ٹیم طاقتور ہے۔۔!! یہ اس لیے کہ  کہیں اس کے نوجوان مسلمانوں سے لڑائی میں غفلت برتنے لگ جائیں۔!! لیکن مسلمانانِ عالم کا حال اس کے برعکس ہے۔۔وہ اسپورٹس،، موسیقی،، گانے بجانے اور کھیل کود کے مختلف امور میں حد سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔۔اللہ تعالیٰ ہی ہماری حفاظت فرمائے۔۔

اقتصادی نقصانات:

۱۔ فٹبال میچوں اور کھیل کود میں مال کا ضیاع ہے: ہم نے سنا ہے کہ کھلاڑیوں کو آسمان چھوتی رقم میں خریدا جاتا ہے۔حالانکہ دوسری جانب مسلمان اس کے ضرورت مند ہوتے ہیں وہ فقر وفاقہ،،بھوک اور مایوسی کی وجہ سے دم ٹوڑ رہے ہوتے ہیں۔(کیامسلمانوں کے اموال بغیر فائدے اور نفع کے برباد نہیں ہورہے ہیں۔۔؟؟؟)

کیا ان پیسوں کو اڑانے والوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول صادق نہیں آتا: ’’اور اپنے اموال کو بیوقوفوں کو نہ دو‘‘

۲۔ وقت کا ضیاع:

فٹبال میچوں کے دوران ملازمین، حکومت کے بڑے بڑے ذمہ داران اور عوام میچ کے منتظمین کی ہمت افزائی کےلیے کام سے چھٹی لے لیتے ہیں۔جس کے نتیجے میں جہاں کام میں گراوٹ پیدا ہوتی ہے وہیں مسلمانوں کے پروڈکٹ کی مانگ میں بھی کمی واقع ہوجاتی ہے۔

سماجی خرابیاں:

۱۔ کھلاڑیوں اور دوست واحباب کے درمیان اختلافات، لڑائی اور بے فائدہ بحث ومباحثہ، حال یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی اور باپ بیٹے بھی اس بلا سے محفوظ نہیں رہ پاتے ۔۔

تجربہ ہے کہ کتنے گھر صرف میچوں سے متعلق پیدا ہوئے اختلافات کی بناء پر اجڑ گئے،،کتنی خواتین مطلقہ ہوگئیں اور کتنے خاندان بکھر گئے۔۔!!

۲۔یہ میچ جہالت اور دھوکہ بازی کے سرچشمے ہیں: جاہل قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کا ملک ان میچوں میں فتح حاصل کرتا ہے تو گویا  ان کے ملک کی عظیم فتح ہوئی ، اور اس کی وجہ سے ان کے ملک کا پرچم بلند ہوا، حالانکہ حقیقت میں اس کامیابی کی کوئی قیمت نہیں۔ نہ ہی یہ فتح اس ملک کے مال ودولت اور قوت طاقت میں اضافہ کا باعث ہے۔۔!!!

اورنہ اس جیت کے بدل میں  اس  ملک کے فقر فاقہ،،مرض کے حالات،، اور مسائل میں کوئی کمی ہوسکتی ہے۔!!

صحت سے متعلق نقصانات:

ایک دوسرے سے تصادم اور مقابلے کے نتیجے میں کھلاڑیوں کے جسم کوکئی خطرات درپیش ہوتے ہیں۔۔کھیل کے میدان میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ  بعض کھلاڑی کھیل کے ختم ہونے پر بے ہوش ہوکر گرجاتے ہیں۔۔!!! یا کھیل کے دوران اسلامی تعلیمات کی دوری کے سبب کسی کا ہاتھ ٹوٹتا ہے اور کسی کا پیر،،اسی کی وجہ سے میدان کے حدود میں ہی ایمرجنسی کار موجود ہوتی ہے۔

۲۔میچوں کے موقع پر منشیات اور نافرمانی کے کاموں پر آمادہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سارے نوجوانوں نے بدترین کھلاڑیوں کو اپنا نمونہ بنادیا، جس کی وجہ ان کا نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنا،گالی گلوج کرنا اور برے اخلاق اپنا نا ہے۔

نفسیاتی نقصانات:

۱۔ میچ جیتنے کی شکل میں خوشی اور جنون کا اظہار اور ہار کی شکل میں حد زیادہ مایوسی اور ٹینشن۔!!!

۲۔ مقابلوں کے دوران مبالغہ آمیز کلمات کا استعمال:  ہم کھیل کے دوران تبصرہ کرنے والے کی زبان سے اکثر تکبیر وتہلیل کے الفاظ سنتے ہیں،، اسی کے ساتھ اس کے زبان سے نکلتا ہے: گول گول گول۔بہت خوب،،بہت بہتر ؛ ان الفاظ کے علاوہ  یا اللہ ،، اللہ اکبر ، الحمدللہ، اے اللہ مدد کر،،کے الفاظ بھی سنائی دیتے ہیں اور  ساتھ میں شریعت کی کھلی مخالفت بھی کی جاتی ہے،،بھلا اس مدد سے کونسی مدد مرادہے؟ یہ کونسا گول ہے؟ اور یہ کونسا بطل ہے؟ اور یہاں کونسا حاکم ہے؟؟ اور اس گول کا کیا مقصد ہے؟؟

۳۔ فٹبال میچ کے دوران ایسے ایسے تعریفی کلمات کا استعمال کیا جاتا ہے جو اللہ اور رسول ﷺ کے نزدیک باعث غضب ہے۔ مثال کے طور پر ٹیموں کو مختلف زہریلے اور طاقتور جانور اور جدید مشینریز کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

۴۔کھلاڑیوں اور ناظرین کے نفوس میں ایسے ایسے فتنے اور حسد وکینہ کو جنم دیا جاتا ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

۵۔ان کھیلوں میں مایوسی ۔۔۔قنوطیت اور ناکامی  ہے۔

جس کی وجہ سے معاشرے کے اکثر افراد خاص طور پر نوجوان کام کاج چھوڑ دیتے ہیں ۔۔!!!

پھر ان کی تعلیمی لیاقت اور زندگی کی  ساری محنتیں بھی انہیں کچھ کرنے پر آمادہ نہیں کرتیں،،، جبکہ ان کے مقابلے بہت سے ایسے افراد پیروں کی حرکت پر ملینوں ڈالر کمالیتے ہیں جو ان کی طرح نہ ڈگری رکھتے ہیں اور نہ  صلاحیت وقابلیت۔۔۔!!!

نوٹ:

بعض کھلاڑی سالانہ پچاس ملین ڈالرسے زیادہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔۔!!! لیکن معاشرہ کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔!!! اس کے برعکس اطباء۔۔انجینئرس۔۔محققین۔۔۔مفکرین۔۔۔سائنسداں اور اس طرح کی اہلیت والے افراد درحقیقت معاشرے کے لیے سود مند ہیں ۔ ۔ یہی افراد اپنی قوم کی ترقی وکامرانی اور کامیابی کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔۔حالانکہ ان میں سے اکثر کی تنخواہیں سالانہ ہزار ڈالر یا اس سے کم ہی ہے۔۔!! حقیقت میں یہ زمانہ عجیب ہے۔۔!!

عام تنبیہات:

یہ میچیس بین الممالک خطرات کا باعث ہیں، مثال کے طور پر:

سال 2009ء میں مصر اور جزائر کے مابین کیا واقعات رونما ہوئے، ایسے حالات پیش آگئے تھے کہ دونوں برادر قوموں کے مابین تعلقات منقطع ہونے پر تھے۔۔!!!  اسی طرح سال 1969 میں سلواڈور اور ہنڈوراس کے مابین صرف فٹبال کے نتیجے میں جنگ چھڑ گئی تھی، اور اس جنگ کے نتیجے میں تقریبا 500 افراد کی جانیں چلی گئیں تھیں۔

نوٹ:

بہت سارے مسلمانوں کی چاہت ہوتی ہے کہ وہ فٹبال کھلاڑی بنیں گے۔۔!!! اور اس طرح کے افراد بغیر سوچےکے گناہوں کے مرتکب ہوتے چلے جاتے ہیں۔۔!!! چونکہ یہ افراد اس کھیل میں موجود معاصی اور نقصانات کو پسند کرتے ہیں۔!!!

پیارے بھائیو۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ لہٰذا خبردار رہیئے۔۔!!!

اور اخیر میں:

لجنۃ کبار علماء کے اس فتوی کو ملاحظہ فرمائیں:

سوال: اسپورٹس میچوں، ورلڈ کپ میچ  اور دیگر میچوں کےدیکھنے کا کیا حکم ہے؟

کمیٹی  کا جواب:

وہ فٹبال میچ جو مال یا اس کے مثل انعام پر منعقد ہوں حرام ہیں، اس لیے کہ یہ قمار یعنی جوے میں شامل ہے، چونکہ جیتنے والے کا کوئی چیز لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدل ہے، ہاں جن چیزوں میں شریعت نے اجازت دی ہے، اور وہ مقابلے جن میں عوض لینا درست نہیں ہے وہ گھوڑ سواری، اونٹ سواری اور نشانہ بازی کے مقابلے ہیں۔ اسی بنیاد پر میچوں میں شرکت کرنا اور میچوں کا دیکھنا دونوں اس شخص کے لیے حرام ہے، جسے یہ پتہ ہو کہ یہ میچ بدل کی بنیاد پر کھیلے جارہے ہیں۔چونکہ میچ میں شرکت کرنا بھی اس کی تائید کرنا ہے، ہاں اگر میچیس بغیر عوض کے اور واجبات وفرائض کے مخالف نہ ہوں، اسی طرح ممنوعہ امور جیسے کشف ستر، اختلاط مردوزون  اور گانے بجانے کے ذرائع سے پاک ہوں تو میچیس میں شرکت اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وبااللہ التوفیق،

وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔۔ فتاوی دائمی کمیٹی 238/15

اور اخیر میں : پیارے بھائیو!

روز قیامت انسان سے فٹبال سے متعلق سوال نہیں ہوگا۔۔!!! بلکہ فرائض وواجبات ۔۔سے متعلق سوال ہوگا۔۔معاصی اور منکرات سے متعلق پوچھ ہوگی۔۔ارشاد نبوی ﷺ ہے:

 

‹لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن أربع : عن عمره فيم أفناه ؟ وعن علمه ماذا عمل به ؟ وعن ماله من أين اكتسبه ، وفيم أنفقه ؟ وعن جسمه فيم أبلاه ؟››
صححه الألباني

 

بندے کے قدم قیامت کے دن اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے چار سوال نہ کرلیے جائیں:

اس کی عمر سے متعلق، کہ کہاں خرچ کیا؟؟ اس کے علم سے متعلق کہ کیا عمل کیا؟؟ اس کے مال سے متعلق کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟؟ اور اس کے جسم سے متعلق کہاں برباد کیا؟؟ صحیح البانی

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اپنے اوقات نفع مند کاموں میں خرچ کرنے والے بنا۔۔

وہی ذات اس کی اہل ہے اور وہی ذات اس پر قادر ہے۔۔


سوال:

 کیا یہ گول ہمیں جنت میں لے جاسکتا ہے؟؟؟  کیا یہ گول ہمارے فقروفاقہ کو ختم کرسکتا ہے۔۔؟!!

کیا یہ گول ہماری اراضی کو آزاد کراسکتا ہے؟!!!

ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی

نظر ثانی: علاء الدین عین الحق مکی


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي