نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  سیریل عمرفاروق ) 

Post
6-8-2012 3049  زيارة   

 


برادران اسلام:

ایک زمانے سے متعدد فلموں میں جانثار صحابۂ رسول اکرمﷺ کو فلمی اداکاروں کی شکل میں دکھایا جارہا ہے، نہ صرف یہ بلکہ بعض فلموں اور سیریلس میں انبیاء علیہم السلام کوبھی دکھایا گیا،جن میں حضرت یوسف، ان کے والد حضرت یعقوب،اور حضرت یوسف کے برادران، نیز حضرت موسی وعیسی اور حضرت مریم وغیرہ علیہم السلام شامل ہیں۔

سوال: ان فلموں اور سیریلس میں انبیاء  علیہم السلام اور صحابہ کرام کی اداکاری کرنے کا شرعی حکم کیا ہے۔۔؟؟

جواب:

پیارے بھائیو!

اگر ہم بالفرض فلمی اداکاری اور تصویر کو مباح  قرار دے بھی دیں تو اس طرح کی فلمیں جو سراسر شریعت مخالف امور پر مشتمل ہیں، حرام ہیں:

 کیونکہ۔

اولا:  ان فلموں میں انبیاء  علیہم السلام اور صحابہ کرام کی تعظیم وتکریم کو ٹھیس پہنچتی ہے، چونکہ جو اداکار انبیاء اور صحابہ کرام کی اداکاری کررہے ہیں انھوں نے اس سے قبل بھی بہت سی ایسی اداکاریوں میں حصہ لیا ہے جو ناچ ، گانے، معاصی اور بے حیائی پر مشتمل ہیں، ، لہٰذا ان اداکاروں کی فلاں صحابی اور فلاں نبی کی جانب اپنی نسبت کرنا، ان پاک وشفاف شخصیات کی توہین اور ان کے  شان میں گستاخی ہے۔

ثانیا: اس طرح کی فلموں میں مقدس شخصیات کی تصویرکشی کے پیچھے تین احتمالات ہیں:

۱۔یا تو مال اور خوب منافع حاصل کرنامقصود ہے۔۔!!

۲۔یا دین ۔۔۔ انبیاء علیہم السلام کے منہج ۔۔ اور صحابہ کے طریقہ زندگی کی دعوت دینا مقصود ہے۔!!

۳۔ یا پھر دینی دعوت کے عظیم کام کو ٹھیس پہنچانا،۔۔اور مقدس شخصیات کی زندگی کو پیش کرکے غلط فائدہ اٹھانا ہے۔

لہٰذا ان تینوں اندیشوں کا جواب یہ ہوسکتا ہے:

۱۔ اگر ان فلموں کےذریعے مال کمانا مقصود ہو۔۔۔ تو ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ایسے عمل کو مسترد کردے جس میں  انبیاء اورصحابہ  کو سامان تجارت بنایا جارہا ہو، اور جن کے ذریعے خوب نفع کمایا جارہا ہو۔۔اللہ کی پناہ۔ چونکہ دین وتوحید کا مسئلہ مال، نفع اور ساری دنیا  کے ساز وسامان سے زیادہ اہم ہے۔

ان فلموں  اور سیریلس کے منتظمین کا کردار۔۔۔مشاھدے کے مطابق محفوظ اور اطمینان بخش  نہیں ہے۔۔!!

لہٰذا فلموں میں ان کی اداکاری کا مقصد صرف  ناظرین کو اپنے جانب متوجہ کرنا ہوتا ہے۔

۲۔اگر ان فلموں کا مقصد۔دعوت الی اللہ ۔۔انبیاء اور صحابہ کی زندگی سے روشناس کرانا ہی ہے۔۔

۔تو یہ ایک گستاخانہ تضاد ہے۔ بھلا  کیسے اللہ کی طرف اللہ کی معصیت کےذریعے دعوت دی جاسکتی ہے۔۔اور بھلا کیسے دعوت کے لیے اداکاری کو ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔۔؟؟

فلمی اداکاری تو مردوزن کے اختلاط۔۔!! ناجائز نگاہوں۔۔!! ناجائز تعلقات۔!! ناجائز خلوت۔!! اور بے شمار نافرمانیوں  کا نام ہے۔

۳۔اگر اس طرح کی فلموں کا مقصد اسلام مخالف جنگ ہے۔!! تو ان فلموں کی حرمت واضح،عیاں اور روشن ہے۔۔اور اب ان کی حرمت کے لیے کسی دلیل وبرہان کی ضرورت نہیں ہے۔۔!!

ثالثا: ان فلموں کے ذریعے حضرات انبیاء علیہم السلام۔۔حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم بشمول ازواجات مطہرات، وامہات المومنین کی سیرت وسوانح مقصود ہوتو ان سب حضرات  کا حال  کیادیگرانسانوں کی طرح تھا؟۔

لہٰذا کیا فلم کا  کوئی ڈائریکٹر اداکاری کے لیے اپنے لیے حلال عورت کا انتخاب کرتا ہے۔۔!!؟؟

اسی طرح ویڈیو بنانے والی ٹیم اس خاتون کو دیکھ سکتی ہیں۔۔؟؟ اور اس کے ساتھ بوس و کنار کرسکتی ہیں؟؟ اور اس کے ساتھ دیگر تمام اداکار خلوت اختیار کرسکتے ہیں۔۔؟؟

۔یہ چیز واضح طور پر ناممکن ہے۔

تو پھر اس طرح کے  گناہوں اور معاصی میں ڈوبے ہوئے اداکاروں کے لیے یہ بات مناسب ہے کہ وہ کسی نبی، اور کسی صحابی رسول  کی اداکاری کریں؟؟؟

یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے۔۔۔۔تصویر کا دوسرا رخ:

کسی بھی قسم کی فلموں کا دیکھنا چاہے وہ اس طرح کے معلوماتی فلمیں ہوں یا کوئی اور۔۔ شرعی طور پر منع ہے۔۔!!

رابعا:

بعض اعتدال پسند حضرات جنھوں نے اس طرح کی فلمیں دیکھی ہیں  کا کہنا ہے کہ ۔۔انھیں اس طرح کی فلموں سے خوب فائدہ ہواہے۔۔بلکہ ہزاروں لوگوں نےان فلموں سے لطف اٹھایا ہے اور انہیں فائدہ ہوا ہے۔۔!!

ہمارا جواب: کثرت تعداد ،،، کثرتِ استفادہ اور لطف اٹھانے میں عبرت نہیں ہے۔۔ بلکہ عبرت تو اس بات پر غور کرنے میں ہے کہ آیا یہ فائدہ شرعی ہے یا نہیں؟؟ آیا یہ تعداد اور کثرت حکم شرعی کے مطابق مجتمع ہے یا مخالف؟؟

بہت سارے لوگ مجتمع ہوں اور منکرات کی سماعت کریں تو  کیا ان کے سننے کا عمل حلا ل ہوجائے گا۔۔؟؟ اور کیا کثرت تعداد کی وجہ سے ان کا یہ عمل حکم شرعی بن جائے گا۔۔؟؟

نوٹ:

کوئی کہتا ہے: میں ان فلموں کے ذریعے انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام کی سیرت جاننا چاہتا ہوں۔۔

جواب: یقینا آپ کا  مقصد بہت اچھا ہے۔۔ لیکن آپ کے عمدہ مقصد کی وجہ سے ان فلموں کا دیکھنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہوسکتا۔۔ لہٰذا خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔۔!!!

خامسا:

کیا بغیر ضرورت کذب اور محرمات کا ارتکاب کسی کے لیے جائز ہے۔۔؟؟ مثال کے طور پر کوئی کہے: میں فلاں ہوں اور حقیقت میں وہ ، وہ نہیں ہے۔۔!! یا پھر کوئی کافر کا کردار ادا کرکے کسی نبی یا صحابی رسول کو گالی دے۔۔!! یا کسی پتھر اور مورتی کی پوجا پاٹ کرے۔۔اور نعوذ باللہ  بحیثیت اداکار یہ سمجھ کر کہ صرف وہ ایک اداکار ہےکسی فحش عمل کی منظر کشی کرے۔۔!! انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔!!

ایک اہم نوٹ:

بعض کمپنیاں۔۔اور بعض فلمی ڈائریکٹرز۔۔علماء دین سے ان فلموں میں خیالی تصاویر کے حکم کے فتاوی طلب کرتے ہیں۔۔!!

اس کی کیا وجہ ہے۔۔؟؟

جواب: ان کے فتوے لینے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ان فلمی ڈائریکٹروں کو مسلمانوں کے غضبناک ردعمل کا خوف رہتا ہے،،، جس کی مثال بہت سارے قلم کاروں ، مصنفین اور ڈرامہ نگاروں کے ساتھ پیش آئے واقعات ہیں۔۔مثال کے طور پر سلمان رشدی۔۔نصر حامد ابوزید۔۔۔اور نجیب محفوظ۔۔ان حضرات نے فتووں کے  ذریعے اپنے شر کو مثبت طریقے سے پھیلانے کی کوشش کی لیکن انھیں مسلمانوں کے غضب کا شکار ہونا پڑا۔۔یہ بات انہیں بھی پتہ تھی کہ ان فلموں کے ذریعے ان کا مقصد ابنیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین ہے۔۔!!

ایک تنبیہ:

اگر بالفرض جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا کہ اگر ان فلموں کے لیے شرعی اجازت مل  بھی جائے ۔۔تو بڑے بڑے متقی بھی انبیاء ، رسولوں اور صحابہ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتےتو بھلا وہ اداکار جن کی پوری تاریخ بدنامی کا شکار رہی ہے کیسے کسی نبی اور صحابی کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔۔؟؟

اخیر میں: ہم یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اب تک اس طرح کی فلموں کی اداکاری کی کسی نے جرأت کیوں نہیں کی تھی اور اب ہی اس طرح کی گستاخانہ فلمیں کیوں پیش کی جارہی ہیں؟؟

جواب: جب ایمان کمزور ہوگیا۔۔فساد پھیل گیا۔۔منکرات میں اضافہ ہوا۔۔اور نافرمانوں کی تعداد بڑھنے لگی۔۔شرم وحیاء باقی نہیں رہی۔۔اورحق خاموش ہوگیا۔۔تو اس طرح کی فلمیں تیار کی گئیں۔۔!!

ہم دعا گوہیں کہ اللہ تعالیٰ سارے مسلمانوں کو دینی حدود کی پابندی کرنے والا بنائے۔۔اسی کی ذات اس کی اہل ہے اور قادر ہے۔۔وجزاکم اللہ خیرا۔۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

 

 

 

 

 

 

 

   


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي