نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  زکوۃ باعثِ سعادت ) 

Post
6-8-2012 2957  زيارة   

 

 

برادران اسلام:

زکوۃ ، شہادتین اور نماز کے بعد اسلام کا تیسرا رکن ہے، زکوۃ کی جہاں بے شمار فضیلتیں ہیں وہیں اس کا ثواب بھی عظیم ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّـهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 261]۔

ترجمہ:  جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کے مال کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اُگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں۔ اور اللہ جس کے اجر کو چاہتا ہے اور زیادہ کرتا ہے ۔ اور اللہ کشائش والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔

زکوۃ ، مسلمان فقراء ومساکین کی مدد کا جہاں ایک اہم ذریعہ ہے وہیں نظام زکوۃ ، بندہ ٔ مسلم  کے لیے متعدد مادی فوائد کا اہم ذریعہ ہے۔

علم جدید کی روشنی میں زکوۃ کے فوائد  :

(۱)۔ زکوۃ بہترے امراض کے سدِ باب کا ذریعہ ہے، خاص طور پر انسان  کی متعلقہ امراض یعنی  بے چینی واضطراب، اعصابی نظام، ذیابیطس، فالج، دل کا دورہ اور گردے کی بیماریوں سے حفاظت ہوتی ہے۔مسلمان جب اپنی زکوۃ ادا کرتے ہے تو اسے ایک قسم کی نفسیاتی راحت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور یہی راحت وسکون اس کے ان امراض کو زائل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

(۲)۔ زکوۃ  کے ذریعے انسان کی مال سے بے تعلقی  کی تربیت  کرنا مقصود ہے، اور یہ چیز مال کے ذریعے دھوکہ دینے والوں کے لیے بے حد ضروری ہے، نیز زکوۃ دینے والا مالی بحران  کے مقابلے کی قدرت رکھتا ہے، سیکڑوں افراد تجارتی خسارے اورقدرتی حادثات  وغیرہ کی وجہ سے مالی بحرانی کے شکار ہوجاتے ہیں۔

(۳)۔ انسان کو بہت سی بیماریاں نظر لگنے اور حسد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، لیکن جب مریض صدقہ دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنے کسی قریبی کو صدقہ دیتا ہے تو اللہ کےحکم سے حسد اور نظر بد کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور یہ صدقہ انسان کی شفاء کا باعث بن جاتا ہے۔!!۔

زکوۃ کے حفاظتی فوائد:

زکوۃ کی وجہ سے معاشرہ میں موجود جرائم کی شرح میں کمی ہوتی ہے:

(۱)۔معاشرہ میں پھیلے ہوئے بہت سے جرائم کی وجہ فقروفاقہ ہوتی ہے، اگر زکوۃ کا اہتمام ہوتو معاشرہ کا یہ مرض ضرور ختم ہوگا، اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں موجود جرائم کے کئی محرکات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔

معاشرے میں بہت سے جرائم وہ ہیں جن کے محرکات میں سر فہرست حرص ولالچ اور معیار زندگی پر عدم اطمیان ہے، جبکہ زکوۃ مسلمان کے معیار زندگی کو اطمینان بخش بنانے کا اہم ذریعہ ہے،جس کے نتیجے میں خودبخود معاشرہ جرائم سے پاک ہوگا۔

اکثر ان ہی لوگوں پر چوری کی نحوست ٹوٹتی ہے جو اہل ثروت وغنی ہوتے ہیں، اگر اہل ثروت افراد اپنے مال کی زکوۃ ان غریبوں کو دینے کا اہتمام کریں گے تو ضرورت ان غرباء کے دلوں سے مالدار کے بارے میں جو کینہ اور حسد تھا اللہ کے حکم سے نکل جائے گا اور یہی لوگ اللہ کے حکم سے اہل ثروت ودولت افراد کے مال کے امین ومحافظ بن جائیں گے۔

 

اقتصادی فوائد:

زکوۃ  امت کی دولت میں درحقیقت اضافے وترقی  کا باعث ہے،  سرمایہ کاری کا اہم محرک خود مال کی ترقی ہے۔

لہٰذا مال کو بڑھانے کے لیے مختلف طریقے استعمال میں لائے جاسکتے ہیں:

(۱)۔ مال میں ترقی ،زراعت وصناعت کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے۔یا پھر تجارت، گھروں کو کرایہ پر دے کر اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے ذریعے۔

زکوۃ دینے والا اسلامی سماج کساد بازاری کا کبھی شکار نہیں ہوسکتا، چونکہ ان کے درمیان سال بھر بشمول مالدار وفقراءلیکویڈیٹی دستیاب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اقتصادیاتی میدان محفوظ رہتا ہے، سال 2008 اس کا واضح ثبوت ہے۔

یقینا زکوۃ کو اللہ تعالیٰ نے معاشرہ میں فقراء کا حق قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿24﴾ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُ‌ومِ} [المعارج: 24-25]۔

ترجمہ: اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔ یعنی مانگنے والے کا اور نہ مانگنے والے کا۔

لہٰذا ایک فقیر مال کی ترقی کا ایک بنیادی حصہ ہے، اگر فقراء نہ ہوتے تو مالداروں کا مال نہ بڑھتا، چونکہ خریدار تو یہی فقراءہیں.

ایک بہت بڑا فائدہ:

زکوۃ فقراء کا حق ہے، نہ کہ مالداروں اور اہل ثروت کا، فقراء کو زکوۃ دینا ان پر احسان ہے۔ اللہ اکبر

ملاحظہ:

سال 2008ء کے مالیاتی بحران کے بغور مطالعہ کے بعد اقتصادی تجزیہ نگار یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ کساد بازاری کے شکار مالیاتی بحران سے نکلنے کا واحد حل فقراء کی امداد میں پوشیدہ ہے۔اور اس کے لیے انھوں نے چند اہم فیصلے اور تجاویز پیش کیے ہیں۔

۱)۔ زیرو نفع کے ساتھ بطور فائدہ  بغیر سود کے قرض دیناتاکہ سرمایہ کاری کا از سر نو سلسلہ جاری رہے۔

۲)۔مالدارملکوں کا غریب ممالک کو اس شرط پر مفت  تعاون کرنا کہ غریب ممالک  مالدار ممالک  کے پروڈکٹس کی خریدی کریں، یہ سارے فیصلے درحقیقت زکوۃ کو نافذ کرنے کے مترادف ہے گرچہ کہ  یہاں زکوۃ کے نام کا وجود نہیں ہے۔ سبحان اللہ

فائدہ: مغربی ممالک کے بعض انصاف پسند افراد کے بقول  مالیاتی بحران کا واحد حل اسلامی اقتصاد میں ہے،جبکہ  فرانس میں اسلامی اقتصاد کے نظام ، اصول وضوابط اور شرائط کو سیکھنے کے لیے خصوصی انسٹی ٹیوٹ بھی قائم ہوئے ہیں۔

اور اخیر میں:  ہم بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اسی کے قبضے میں ہر چیز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، لہٰذا زکوۃ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فریضہ ہے، اور اس کی ادائیگی ربِ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے، زکوۃ کے ادا کرنے پر اللہ تعالیٰ بندوں کے اموال کو ہر قسم کی مصیبت سے محفوظ کردیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے حق میں کسی مصیبت کا فیصلہ بھی ہوتا ہے تو زکوۃ کی ادائیگی پر اللہ تعالیٰ اس مصیبت میں تخفیف اور مہربانی کا معاملہ فرماتے ہیں۔جس کی وجہ سے قحط سالی اور بحران میں کمی واقع ہوتی ہے ، برسات اور بارش ہوتی ہے، زرعی حالات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

بیشک زکوٰۃ کے نتیجے میں مسلم معاشرے سے حادثات وواقعات ،قدرتی آفات  اور جرائم میں کمی واقع ہوتی  ہے،اور اللہ کے فضل سے خیر وبھلائی، برکت  وسعادت مندی اور کشادگی میں اضافہ ہوتا ہے۔۔یہ سب برکات ورحمتیں زکوۃ جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی پر بندوں کو عطا  ہوتے ہیں۔اللہ اکبر

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اور سارے مسلمانوں کو اس مبارک عبادت کی ادائیگی کی توفیق دے، اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت ہے اور وہی ذات  اس کی اہل اور قادر ہے۔۔۔

 درود وسلام ہو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر۔

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



19 زيارة
|

22 زيارة
|

24 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي