نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  ملازمت سے سبکدوشی (ریٹائر مینٹ) ) 

Post
12-8-2012 2720  زيارة   

 

 

 

پیارے مسلمانو!

فرانس میں متعدد سالوں سے اُن محرکات اور عوامل کا سروے کیاجارہا ہے جو انسان کے لیے باعث ِسعادت ہوسکتے ہیں۔۔۔سروے کے بعد پتہ یہ چلا کہ  انسان کی سعادت مندی میں کام کو ساٹھ فیصد دخل ہے۔

پیارے بھائیو!

ملازمت یا  کام کا بنیادی مقصد رزق کا حصول ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی روزمرہ کی ضروریات: کھانے، پینے، رہائش، دوا وعلاج، لباس اور دیگر ضروریات کو پورا کرسکے۔لیکن  روزہ مرہ کی ضروریات کی تکمیل کے بعد ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ کام انسان کا  ذاتی ہدف بن جاتا ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ ہم اہل ثروت ودولت کو تجارتی سرگرمیوں میں مصروف پاتے ہیں۔۔لہٰذا کام:

۱۔خوداحساسی کا میدان ہے، ۲۔ کام انسان  کے وجود کو ثابت کرتا ہے۔۳۔اسکے اندر اپنے وجود کا احساس پیدا کرتا ہے۔ ۴۔ اس کے اندر زندہ اور بااثر ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔

پیارے بھائی:

دنیا کے اکثر ممالک کی تنظیمیں اور قوانین ملازم کی ساٹھ برس عمر ہونے کے بعد یا ملازمت کے تیس یا ۲۵ برس ہونے پر  ملازمت سے سبکدوشی کو واجب قرار دیتے ہیں۔۔ اس شرط پر کہ حکومت اس وظیفہ یاب ملازم کو اس کی اصل  تنخواہ کا ۷۵ فیصد حصہ  ہر ماہ ادا کرے، اور یہ رقم اسے اُس کی مُلازمت  کے دوران ماہانہ تنخواہ میں سے کٹوتی کرکے ادا کرے۔

اے مسلمانو! : وظیفہ یابی کے سلسلے میں مغرب کا کیا نظریہ ہے۔؟

ریٹائرمینٹ یا وظیفہ یابی کے سلسلے میں مغرب کا یہ نظریہ ہے کہ : ملازمت کے ایک عرصے بعد انسان کو  دائمی آرام دینا  اور بقیہ زندگی کا لطف اٹھانا اس کا حق ہے!! اکثر یہ سہولیات مزدور یا ملازم کو عمر کے ساٹھ برس ہونے پر دی جاتی ہیں۔

اسلامی شریعت میں ملازمت یا کام:

دین اسلام نے کام کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس پر ابھارا ہے، نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ۔ [بخاری]

ترجمہ: کوئی شخص بھی کبھی اپنے ہاتھ  کی کمائی کے کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھاتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی کمائی کے کھانے کو عبادت کی ایک قسم اور اللہ کے راستے میں جہاد سے تعبیر کیا ہے، بشرطیکہ اس کمائی میں اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو، ارشاد نبوی ﷺ ہے:

(إنما الأعمال بالنيّات ، وإنما لكل امريء مانوى ، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله ، فهجرته إلى الله ورسوله ، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها ، أو امرأة ينكحها ، فهجرته إلى ما هاجر إليه [رواه البخاري ومسلم]

ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی ، جس نے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول کے لیے ہو، یا کسی عورت سے نکاح کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔

اسلام نے اس کام کو ترک کرنے سے خبردار کیا ، جو انسان کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور سوال کرنے پر مجبور کرے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

والذي نفسي بيده لأن يأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا أعطاه الله من فضله فيسأله أعطاه أو منعه .[بخاری]

ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے قبضے قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اپنی رسی لے، پھر اپنی پشت پر لکڑیاں باندھے،یہ عمل  بہتر ہے اس  سے  کہ کسی کے پاس جائے اور دست سوال درازے کرے، چاہے تو وہ دے یا پھر نہ دے۔

شریعت اسلامیہ میں کام یا ملازمت کو کسی زمانے، یا کسی جگہ میں مقید کرنا کہیں نہیں آیا ہے۔۔لہٰذا مسلمان جب تک صاحب قدر ت ہے اس سے کام مطلوب ہے: ۱۔ کہ وہ اپنی ذات کو نفع پہنچائے، ۲۔ اور دوسروں کو بھی نفع پہنچائے۔امت کے سلف صالحین اور ان کے پیروکار علماء اور صلحاء رحمہم اللہ کا یہی طریقہ کار تھا۔  

لہٰذا دین اسلام میں ترکِ عمل یا ترک ِملازمت یا  سبکدوشی، وظیفہ یابی اور ریٹائرمینٹ  کے لیے کوئی خاص سال یا دن مقرر نہیں ہے۔ نہ ہی اسلام اس کی دعوت دیتا ہے،،بلکہ اسلام اس کے خلاف ہے،، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: اِحْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ, وَاسْتَعِنْ بِاَللَّهِ, وَلَا تَعْجَزْ۔۔ [مسلم]

ترجمہ: جو تمہیں نفع دے اس  کی کوشش کرو اور عاجز نہ بنو۔

وظیفہ یابی یا ریٹائرمینٹ کے بعض نقصانات اور اثرات:

۱۔نفسیاتی نقصانات:

ریٹائرمینٹ افراد پر کی گئی بے شمار تحقیقات  سے یہ ثابت ہوگیا ہے (ہماری مراد وہ افراد جو ملازمت سے سبکدوش ہوئے اور پھر  کسی نئے کام سے منسلک نہیں ہوئے) کہ اس طرح کے افراد سخت نفسیاتی عوارض اور امراض سے دوچار ہوتے ہیں: جن میں سرفہرست امراض ہیں:

۱۔ ڈپریشن                          ۲۔ مایوسی           ۳۔اُداسی                       ۴۔ اور عدم اعتمادی

انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

۲۔سماجی نقصانات:

عام طور پر جو لوگ ملازمت سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور کسی اور مصروفیت سے دور رہتے ہیں تو ایسے افراد  میاں بیوی کے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔۔!!

اسی طرح یہ افراد خاندانی  اور اولاد کے مسائل میں بھی الجھ جاتے ہیں۔

خصوصا  ملازمت سے سبکدوش ہونے کے فورا بعد سبکدوش ملازم اپنےاطراف کے ماحول سے سمجھوتہ کرلیتا ہے، ۔۔!! اس کا یہ عمل احساس کہتری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لہٰذا پھر وہ  مشکل  ترین کام بھی انجام دینے کی کوشش کرتا  تاکہ لوگوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ:

۱۔ وہ موجود ہے۔۔!! ۲۔ یا وہ اپنی پہلی ہی حالت پر قائم ہے۔۔!!

صحت سے متعلق نقصانات:

۱۔ سبکدوش ملازمین کے امراض کا فیصد اچانک بڑھنے لگ جاتا ہے،غالباً ترک ِعمل  جسمانی کمزوری پیدا کرتا ہے۔

۲۔ قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم امراض کو قبول کرنے لگ جاتا ہے۔

۳۔ترکِ عمل انسان کے دل میں یہ فکریں پیدا کردیتا ہےکہ عنقریب بیماریاں اس پر حملہ آور ہونگی۔۔اس لیے کہ اب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہے۔۔لہٰذا سبکدوش انسان کے اعضاء پر یہ سوچ اثر انداز ہوتی جاتی ہے۔

۴۔یہ بات تجربہ میں آئی ہے کہ  سبکدوش ہونے والے لوگوں کے درمیان ایک بڑی بیماری عام ہورہی ہے جسے  زہائیمر(پاگلپن) کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کے بہت سے عوارض ہیں، بنیادی طور پہ بیمار شخص بھولنے اور یاد داشت کی کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے۔

اقتصادی نقصانات:

ملازمین کی سبکدوشی کے حامی افراد کے دلائل ہیں:

۔کام کے لیے نئی  جگہیں مہیا کرنا

۔نئی نسل کے لیے میدان صاف کرنا

یہ دلائل مکمل طور پر غیرمعقول ہیں۔

نوجوانوں کی بے راہ روی کا علاج  بڑی عمر کے ملازمین اور مزدوروں کو سبکدوش کرنے میں نہیں ہے، بلکہ کام کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔۔

مزدوروں اور ملازمین کو سبکدوش کرنا  ، حکام، وزراء اور بڑے بڑے عہدیداروں کا عیب ہے، خاص طور پر ان افراد کا جواس طریقے کےذریعے اپنے عیوب کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس طویل مدت ملازمت کے بعد ملازم کو قیمتی سرمایہ تصور کرنا چاہیے۔۔کیونکہ اس معیاری تجربات تک پہنچنے کے لیے اس کے اوپر کتنی دولت خرچ کی گئی پھر اس کے بعد سبکدوشی کی نوبت آتی ہے۔ : ۱۔ جو اُن تجربات کے لیے قاتل ثابت ہوتی ہے، ۲۔ یہ قیمتی اوقات کو رائیگاں کردیتی ہے، ۳۔ان تجربات کو حاصل کرنے کے لیے ٹریننگ اور تربیت پہ صرف کیئے گئے اموال کو ضائع کردیتی ہے۔

جبکہ دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ ایک نیا بحال شدہ ملازم  ایک طویل وقت اور بڑی دولت  کا محتاج ہوتا ہے تاکہ اس پرانے تجربہ کار ملازم کی کمی پوری کی جاسکے،خاص طور سے ہمارے ممالک  جو پہلے سے ہی بہت سے اقتصادی مسائل اور مشکلات  کے شکار ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبکدوشی سے ملکی خزانے پہ مزید بھاری معاشی بوجھ  میں اضافہ ہوتا ہےجو پہلے سے ہی اس اعتبار سے کافی بدحال ہے، اور سبکدوش ملازمین کی پنشن کے نقطہ نظر سے سوچیں تو اب ان سے ملک کو کوئی عملی فائدہ نہیں بلکہ یہ خود ملک کے لیے بار ہیں۔اور اس کا حل یہی ہے کہ پرانے اور نئے ملازمین کے درمیان توازن قائم کیا جائے تاکہ معاشرہ میں کوئی خلل اور کمی پیدا نہ ہو،(یعنی ان سے کام لیا جائے اور بے کار نہ چھوڑا جائے)۔

ملاحظہ:

اگر ہم انسانی خودساختہ قوانین سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا اس قانون سے جسے وہ ’’سبکدوشی یا ریٹائرمینٹ‘‘ کا نام دیتے ہیں چھوڑدیں اور اسلامی اصول اختیار کرلیں تو  اس سے بہت سے فائدے حاصل کرسکتے ہیں: ۱۔ ملک کے لیے اربوں اور کروڑوں کی بچت کرسکتے ہیں،۲۔ بہت سے سماجی مسائل کو دور کرسکتے ہیں،۲۔ اور بہت سے بحران میں کمی پیدا کرسکتے ہیں۔

اور اخیر میں: پیارے بھائیو! :

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی بڑی شخصیات کا معاملہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری بڑی خوش اسلوبی سے اور تعمیری انداز میں انجام دیتے تھے، جبکہ وہ عمر کے آخری حصے کو پہنچ چکے تھے۔۔! ان میں سرفہرست انبیاء ورسل علیہم السلام کا نام آتا ہے، خاص طور سے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو اپنی تمام سرگرمیاں انجام دیتے رہے، چاہے وہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری ہو، یا کافروں اور مشرکوں سے جنگ کا معاملہ ہو، اور اسی طرح آپ ایک سیاسی فوجی اور سماجی رہنما کے طور پہ قائدانہ فریضہ انجام دیتے رہے۔اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی کام سے سبکدوشی اختیار نہیں کی، اور اسی حالت میں اپنے رفیقِ اعلی سے جاملے۔

خلیفہ را شد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا معاملہ یہ ہے کہ شہادت کے وقت ان کی عمر ۸۳ سال تھی، انس بن مالکؓ  کا حال یہ ہے کہ عمر سو سال سے زیادہ ہوچکی ہے مگر احادیث رسول ﷺ کےذخیرے میں سے ایک حدیث بھی  وہ نہ بھولے۔اور اسی طرح امیر فاتح یوسف  تاشقین ؒ  جو بیک وقت سردار ہونے کے ساتھ مجاہد بھی تھے، اور ایک بہادر عبقری فوجی قائد تھے جبکہ ان کی عمر ۸۳ سال سے اوپر ہوچکی ہے۔

یہ تو چند مثالیں ہیں ان کے علاوہ بڑی بڑی شخصیتوں کی مثالیں موجود ہیں، اگر ان بزرگوں کے زمانے میں بھی یہ ظالمانہ اور غلط قانون نافذ ہوتا تو  ہم ان فتوحات، انسانی صلاحیتوں اور برکتوں سے محروم رہ جاتے۔

ذیل میں ہم چند اشکالات استفسارات اور ملاحظے پیش کرتے ہیں:

۱۔اگر بڑی عمر کو پہنچنے کے بعد انسان کی کام کرنے کی صلاحیت اور طاقت کم پڑجاتی ہے جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے تو  اس ’’قانون سبکدوشی‘‘ کو ملوک وسلاطین، حکام، اور امراء ووزراء کے لیے کیوں نافذ نہیں کیا جاتا۔

۲۔پرائیویٹ کمپنیوں کے مالک اور اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ  بڑی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی اپنی ذمہ داری بڑی چستی اور خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں۔

۳۔کیا یہ ممکن نہیں کہ سبکدوشی کے معاملے کو ملازم کے اختیار پہ چھوڑ دیا جائے۔

۴۔کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک شعبہ یا کمیٹی قائم کی جائے جو ہر ملازم کی الگ الگ صلاحیت اور قدرت کا اندازہ لگائے، جیسا کہ بحالی کے وقت کیا جاتا ہے۔بجائے اس کے کہ آنکھ بند کرکے ہر کس وناکس پہ یہ قانون نافذ کیا جائے۔جو ظلم ، اور غلطی پہ مبنی ہونے کے ساتھ اصل راستے سے بھی ہٹا ہوا ہے۔

۵۔تجربات شاہد ہیں کہ زیادہ تر سبکدوش ملازمین نئے کام کی تلاش میں بھاگتے پھرتے ہیں۔۔اگرچہ معاشی طور پہ وہ کسی حد تک مستحکم ہوتے ہیں چاہے نیا کام جس تنخواہ پہ بھی دستیاب ہوجائے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عمل اور محنت نے ملازمین کے اندر ایک خاص سعادت مندی اور اطمینان پیدا کردیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سبکدوشی کا قانون  ایک مغربی سوچ ہے، تجربات سے اس کی غلطی ،گمراہی اور نقصانات ثابت ہوچکے ہیں۔ہماری ذمہ داری ہے کہ مغرب سے درآمد ہر چیز کے پیچھے آنکھ بند کرکے نہ بھاگیں۔

 

 

 

 

 

 

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي