نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  وطن پرستی ) 

Post
14-8-2012 3065  زيارة   

 

یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کی اکثر وبیشتر قومیں استعمار، اور ناجائز غاصبانہ قبضے کے تحت ظلم کی چکی میں پستی رہی ہیں اور ایک زمانہ تک ان قوموں نے ظلم وزیادتی ، ابتلا اور آزمائش اور جان ومال نیز عزت وآبرو پر حملہ کو بری طرح جھیلا ہے۔ اور اس غیر انسانی ظلم وزیادتی سے رہائی کے لیے مختلف انداز سے کوششیں کرتی رہی ہیں ، کبھی تو ان قوموں نے انقلابی تحریک برپا کی تو کبھی جہاد کا نعرہ دیا، اور اس غاصبانہ قبضے سے آزادی حاصل کرنے کے لیے خونریز جنگیں لڑی گئیں، جن کے نتیجہ میں انسان کا سب کچھ تباہ وبرباد ہوگیا۔

۱۔خوشحال اور سرسبز وشاداب آبادیوں کو جلا کر خاکستر کردیا۔۲۔ معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، ۳۔والدین کے احساسات وجذبات کو کچل کر رکھ دیا گیا، ۴۔ ماؤں کی شفقتوں کا خون کیا گیا وغیرہ۔ اور یہ روایت چلی آرہی ہے کہ قومیں ہر سال آزادی وخودمختاری کے دن کو یادگار کے طور پر مناتی رہی ہیں اور اس دن کا نام دیا جاتا ہے قومی جشن وخوشی کا دن ۔۔جشن آزادی۔

حُب الوطنی(وطن پرستی)

پیارے بھائیو!

انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ  اپنے وطن، اپنی جائے پیدائش اور اپنی اس  زمین سے محبت کرتا ہے جس میں اس کی نشونما ہوئی، جہاں تربیت پائی اور جہاں پلا بڑھا۔۔یہ صفت ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔

اسلا م اور وطن:

اسلا م میں وطن کا تصور یہ ہے کہ وطن وہ جگہ  یا سرزمین ہے جہاں ایک مسلمان رہتا ہو اور اس سرزمین کی بنیاد اسلامی احکام اور قوانین پر ہو، یہ زمین اس آدمی کی جائے پیدائش  ہو  یا نہ ہو۔اور اس کی اولین ترجیح ،رُخ اور محبت اپنے دین سے ہو، اور دین سے متصادم ہر چیز اس کے لیے قابل توجہ نہ ہو، چاہے وہ جو کچھ بھی ہو اور جتنی بھی  اہم کیوں نہ  ہو۔اور دین اسلام میں وطن کی محبت جائز ہے  اگر وہاں اسلامی احکام کا غلبہ ہو۔ہاں اگر اسلام کا بول بالا نہ  ہوتو پھر یہ محبت جائز نہیں ہے۔لیکن دعوت کی نیت سے اس ملک میں سکونت حاصل کرسکتا ہے۔

نصیحتیں اور چند گذارشات:

دینی محبت ، اخوت اور پابندی کا تقاضہ ہے کہ دوسرے مسلمان کی رہنمائی کی جائے ، اس جذبہ کے تحت’’ نیشنل ڈے‘‘ (قومی دن ) اور ’’جشن آزادی‘‘ کے بارے میں    چند گذارشات پیش کیئے جاتے ہیں:

۱۔ قومی دن کو عید کا نام دینا شریعت کے سراسر خلاف ہے۔

کیونکہ مسلمانوں کو دین اسلام نے صرف دو عید دیئے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہیں۔

۲۔ قومی دن کا جشن منانا مغربی تہذیب کا حصہ ہے جو ہماری شریعت اور دین میں ایک نئی بات ہے، اور اس سے غیر مسلموں کی تہذیب اور پیروی لازم آتی ہے، جبکہ ہمیں ان کی پیروی اور تقلید سے منع کیا گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’خالفوا المشركين‘‘ [متفق علیہ]

’’غیرمسلموں کی مخالفت کرو‘‘

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی فتحیابیوں  کا جشن منایا ہو۔

۳۔یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ تزئین وآرائش ، قومی پرچم اور جشن پہ خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے،اور یہ اخراجات حکومتی خزانے سے خرچ کیئے جاتے ہیں جو فضول ہیں اور جائز نہیں ، یہ اسراف اور فضول خرچی کے حکم میں آتے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے روکا ہے۔چاہے ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو،جبکہ یہاں تو خطیر رقم خرچ کی جاتی ہیں، جن کا حکم اور سخت ہوگا۔

ملاحظہ:

مسلمانوں کی دولت صرف ضروری اور نفع بخش کاموں میں ہی خرچ کرنا جائز ہے جو ہر لحاظ سے مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

۴۔معمول یہ ہے کہ قومی پرچم کو بلند مقام پہ نصب کیا جاتا ہے اور لوگ وہاں کھڑے ہوکر اسے سلامی دیتے ہیں اور اسی سے جشن آزادی کی تقریب کا آغاز کیا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل ایک بدعتی عمل ہے جو اسلام میں منکر کے حکم میں آتا ہے، اس سے پرہیز کرنا لازمی ہے۔

۵۔ اس موقع سے رقص وسروراور موسیقی کے مختلف  تقاریب منعقد کیئے جاتے ہیں اور اس کے لیے  مشہور نغمہ گو مرد وخواتین کو مدعو کیا جاتا ہے اور  ان پہ ہزاروں کی دولت لٹائی جاتی ہے۔

ان تقریبوں میں بے حیائی، بے پردگی، اختلاط  اور فواحش ومنکرات  کا ننگا ناچ ہوتا ہے۔جو بے شک شریعت میں حرام ہے۔

ملاحظات اور فوائد:

۱۔تمام ممالک کا دستور ہے کہ وہ اپنے لیے ایک خاص پرچم بناتے ہیں جن سے ملک کی شناخت کا اظہار ہوتا ہے اور وہ حکومتی رمز بھی ہوتا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک پرچم تھا، براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے  وہ نبی کریم ﷺ کے پرچم کے بارے میں روایت کرتے ہیں:

’’آپ کا پرچم سیاہ اور سفید دھاری کا بنا ہوا تھا‘‘۔

مگر اس پرچم سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اس کی حیثیت ، شناخت اور رمز سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔جہاں تک اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونے کی بات ہے اور سلامی کی بات ہےیا اسے بوسہ دینے کی بات ہے اور سروں اور پیشانیوں سے باندھنے کی بات  تو یہ ساری چیزیں ناجائز ہیں کیونکہ اس کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کی عبادت لازم آتی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ارشاد ربانی ہے:

 وَقُومُواْ لِلّهِ قَانِتِين" ۔[البقرہ: ]  ’’اور اللہ کے سامنے جھک کر(عاجزی سے)کھڑے رہو‘‘

۲۔ جمادات کی تعظیم اور عبادت:

جیسے  پھتروں کے بت،، لکڑیوں کے مورتیاں، ستارے، درخت اور نہروں کی تعظیم کرنا ، یہ سب جاہلیت کے کام  اور شرک ہے۔(اور اللہ کی پناہ) جب مقصد اللہ کے علاوہ کی تعظیم ہوجاتا ہے تو  شخصیات ، قانون اورپرچم  بھی اسی حکم میں آتے ہیں۔

۳۔پرچم کی حیثیت صرف کپڑے کے ٹکڑے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے،کیونکہ جب ایک عرصہ گذرجاتا ہے تو  گندہ ہونے کی وجہ سے اسی پرچم کو پھاڑ کر نکالا جاتا ہے اور کچرے کی نذر کیا جاتا ہے، بھلا ایسے کپڑے کے ایک ٹکڑے کی تعظیم وتقدیس کا کیا مطلب؟

۴۔حجر اسود کے علاوہ جمادات میں سے کسی چیز کی بھی تعظیم وتقدیس اور اس کا بوسہ لینا جائز نہیں ہے ، امیر المومنین عمر بن خطاب نے حجراسود کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:

’’مجھے بخوبی معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچاسکتا ہے اورنہ نفع، اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں بھی تیرا بوسہ نہیں لیتا‘‘ [بخاری]

۵۔اکثر ہم راستوں پر پرچموں کا مشاہدہ کرتے ہیں، جن پر صلیب کی نشانی ہوتی ہے، اس طرح کے پرچم اس وقت لگائے جاتے ہیں جب کسی ملک کا کوئی ذمہ دار ملک کے دورے پر آئے، یہ رسم دونوں ملکوں کے مابین ڈپلومیٹک متبادل کے طور پر کی جاتی ہے، لیکن: اس طرح کا مظاہرہ کرنا  شریعت میں جائز نہیں ہے، کیونکہ بلاد اسلام میں باطل کا پرچم سربلند کرنا جائز نہیں ہے، پھر بھلا جب ایسا پرچم جس پر صلیب کی علامت بھی ہو، بلند کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلیب (تصویر)نہیں دیکھتے تھے مگر یہ کہ اسے پھاڑ دیتے تھے، یا ختم کردیتے تھے‘‘ [بخاری]

خلاصہ:

اس بات میں کسی شخص کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ انسان کو اپنے ملک ووطن سے محبت ہوتی ہے، حکام سے لے کر رعایا تک، اور افراد سے لے کر پارٹی اور گروپ  تک ہر ایک کو ملک ووطن سے محبت ہوتی ہے، یقینا اگر اس ملک میں اسلامی احکام کا بول بالا ہوتو ایسی محبت مشروع اور جائز ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک سربلند رہے، باعزت رہے، اگر ملک باعزت ہوتو گویا ملک والے بھی معزز ہیں، لیکن عزت تو صرف اور صرف توحید اور ایمان سے وابستہ ہے: ارشاد ربانی ہے:

"ولله العزة ولرسوله وللمؤمنين‘‘  [منافقون]

اور عزت  تو اللہ کے لیے،اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے ہے۔

 

اسی طرح نعمتوں کی ابدیت اور دوام اسی وقت باقی رہ سکتا ہے جب اللہ کے احکام کو اپنے اوپر  نافذ کیا جائے اور اللہ کا  شکر بجالا یا جائے، ارشاد ربانی ہے:

 لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ   [ابراھیم] ’’ اگر تم شکر کروں گے تو میں مزید عطا کروں گا‘‘

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کویت اور تمام دنیا  کے مسلمانوں کی ہر شر سے حفاظت فرمائے۔۔ وجزاکم اللہ خیرا ، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔

مرکزوذکر

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي