نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  خادم اور خادمہ کے مسائل ) 

Post
8-9-2012 1724  زيارة   

 

 

’’تمہارےیہ بھائی تمہارے خدمت گار ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے قبضہ میں دیاہے، بس جس شخص کا بھائی اس کے ہاتھ کے نیچے یعنی قبضہ میں ہو، اسے چاہئے کہ جو چیز وہ خود کھائے، اسے بھی وہی کھلائے،اور جو لباس خود پہنتا ہے،اسے بھی اسی طرح کا پہنائے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور اگر ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ڈالو تواس میں ان کی مدد کرو۔‘‘(بخاری)

«إخوانكم وخولكم. جعلهم الله تحت أيديكم. فمن كان أخوه تحت يديه فليطعمه مما يأكل. وليلبسه مما يلبس. ولا تكلفوهم ما يغلبهم. فإن كلفتموهم فأعينوهم عليه» متفق عليه

 

اے مسلمانو!

 بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے گھر میں روزانہ کے کام کاج کے لیے کسی خادم یا خادمہ کا انتظام کرتے ہیں، اسی قلیل تعداد میں  اہل کویت کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو اپنے گھر میں خادم اور خادمہ کا انتظام کرتی ہیں، یہ ایک عظیم نعمتِ الٰہی ہے، اس نعمت پر ہر مسلمان کو اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ آج بھی بہت سے ایسے ممالک موجود ہیں جہاں لوگ اپنے ذاتی یومیہ اخراجات کی تکمیل بھی نہیں کرسکتے، چہ جائے کہ وہ اپنے گھر میں خادم اور خادمہ رکھے۔

  اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی بہت ساری علامات ہیں:

۱۔ ان کمزور اور مسکین جانوں کے ساتھ حسن ِسلوک سے پیش آنا۔

۲۔ان کے ساتھ انصاف کرنااور ان کے حقوق ادا کرنا۔

۳۔ ان کے کام میں تخفیف سے کام لینا۔

۴۔ ان کے کندھوں سے ظلم وجور اور زیادتی کے بوجھ کو ہلکا کرنا۔

خادمین سے متعلق چند باتیں:

اولا: صاحب بیت کے نزدیک خادم اور خادمہ کا مقام ایک مزدور کی مانند ہے، لہٰذا ان کے ساتھ مزدوروں کی طرح ہی معاملات کیے جائیں، ان کے لائق ان کی ماہانہ تنخواہ ادا کرنا ؛ ان پر صاحب بیت کی جانب سے کوئی احسان اور فضل نہیں ہوگا، بلکہ ماہانہ تنخواہ ان کا حق ہے۔ حدیث قدسی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:  

ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة.. ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره [البخاري]

’’ تین افراد ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں قیامت کے دن میں خود ہی دعوی دائر کر دوں گا (جن میں ایک ) وہ شخص ہے جس نے کسی مزدور کو کام پر رکھا، اس سے پورا کام لے لیا لیکن اس کی اجرت عطا نہیں کی۔‘‘

ارشاد نبوی ﷺ ہے: مطل الغني ظلم۔[متفق عليه]

’’مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے‘‘۔

۳۔ مزدور کی کیا ذمہ داریاں ہے واضح کردینا چاہیے:

لہٰذا انہیں غیر محدود  طور پر گھنٹوں  تک کام سے لگائے رکھنا  اور آرام وراحت کے لیے کوئی موقع نہیں دینا جائز نہیں ہے،  ہاں اگر زیادہ کام کی ضرورت ہوتو انہیں مالی اور معنوی طور پر بدل دینا ضروری ہے، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

ولا تكلفوهم ما يغلبهم ، فإن كلفتموهم ما يغلبهم فأعينوهم۔[البخاري]

’’اوران کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔‘‘۔

۴۔ان کے ساتھ بدسلوکی جائز نہیں ہے:

خادم یا خادمہ کو برا بھلا کہنا، گالی گلوج کرنا، مارنا ، ایذا پہنچانا اور ان کی غیبت کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے، حرمت کے اعتبار سے وہ بھی دیگر تمام مسلمانوں کی طرح ہیں، ارشاد نبوی ﷺؒ ہے:

المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده۔[متفق عليه]

’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

۵۔ ان کوحقیر جاننا اور ان کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے:

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم۔[مسلم]

’’انسان کے شریر ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے‘‘۔

۶۔ باب اور ماں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنی اولاد کو خادمین کےساتھ بدسلوکی کی اجازت دیں یا ان کی بدسلوکی پر خاموشی اختیار کریں، اگر خادمین کے ساتھ وہ بدسلوکی سے پیش آئیں تو انہیں خوش کرنا اور بدسلوکی پر معذرت پیش کرنا ضروری ہے، کیونکہ ماں باپ ذمہ دار ہیں، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: « كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته۔[متفق عليه]

’’تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔

۷۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خادم اور خادمہ  اپنے حق کو حاصل کرنے اور حق تک پہنچنے کے لیے کسی معین ومددگار اور منصف کو نہیں پاتے ، (اللہ تعالیٰ بعض پولس والوں کو ہدایت دے) جب ان کے پاس  خادم یا خادمہ صاحب بیت کی شکایت لے کر پہنچتے ہیں تو وہ پولس کے اہلکاروں کو صاحب بیت کی طرف مائل پاتے ہیں اور ان کے مسائل کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، یہ چیز حرام اور ناجائز ہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے:

انصر أخاك ظالماً أو مظلوماً۔ [البخاري]

’’اپنے بھائی کی مدد کرو ظالم ہو تب بھی(یعنی ظلم سے روک کر) اور مظلوم ہو تب بھی‘‘ (اسے ظلم سے نجات دلاکر)

ثانیا: خادمین کے ساتھ احسان اور اچھا برتاؤ:

۱۔گھروالوں کے کھانے میں سے انہیں بھی کھانا کھلانا چاہیے، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

إذا صنع لأحدكم خادمه طعامه ثم جاءه به ، وقد ولى حره ودخانه ، فليقعده معه . ليأكل . فإن كان الطعام مشفوها قليلا ، فليضع في يده منه أكلة أو أكلتين۔[مسلم]

(جب تمہارا کوئی خادم کھانا پکائے اور اسے لے کر تمہارے پاس آئے تو چونکہ اس نے کھانا پکانے کے لئے تپش اور دھواں برداشت کیا ہے، اس وجہ سے اسے اپنے ساتھ بٹھا لو اور کھانا کھلاؤ۔ اگر کھانا کم مقدار میں ہو تو اپنے ہاتھ سے اس کے لئے (کم از کم) ایک دو لقمے ہی الگ کر دو۔)

۲۔ انہیں مناسب اور اچھے کپڑے پہنائیں، ارشاد نبوی ﷺ ہے:

وليلبسه مما يلبس۔ [البخاري]

’’(خادم) کو وہ پہنائے جو (خود) پہنے۔‘‘

۳۔بسا اوقات خادم یا خادمہ کسی دنیاوی مصیبت یا پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اس موقع پر صاحب بیت کی مدد وتعاون کی سخت ضرورت ہوتی ہے،ایسے موقع پر ان کی حسب استطاعت مدد کی جائے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:

من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه۔[مسلم]

’’تم میں سے جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ فائدہ پہنچائے۔‘‘

۴۔ پیارے بھائی ہدیے، تحایف اور عیدی دینا،اسی طرح ہر وہ کام کرنا جس سے خادم کو خوشی ہوسکتی ہے نہ بھولیے، کیونکہ اگر آپ ایسا کروگے تو یہ آپ کی طرف سے صدقہ ہوگا اور باعث اجر ہوگا، ارشاد نبوی ﷺ ہے:

اتقوا النار ولو بشق تمرة۔[متفق عليه]

’’جہنم سے بچو گرچہ کھجور کی گڈلی کے ذریعے  ہی کیوں نہ ہو‘‘

۵۔ بسا اوقات خادم کے لیے  اسلام کی تعلیمات اور احکامات  جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا اس سلسلے میں کوتاہی سے کام نہ لیجیے، ارشاد نبوی ﷺ ہے:

من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه۔[مسلم]

۶۔خادمین کی غلطیوں کو معاف کرنا چاہیے، اور ان کی خامیوں کو نظرانداز کرنا چاہیے، کیونکہ وہ بھی بشر ہی ہے، ان سے بھی غلطی ممکن ہے، ہر ابن آدم غلطی کرتا ہے لیکن غلطی کرنے والوں میں بہترین وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُ‌هُ عَلَى اللَّـهِ۔ [الشورى]

’’جس نے معاف کیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے‘‘

ثالثا: ہمارے نبی ﷺ کا خدام کے ساتھ برتاؤ:

انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کی دس برس خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اف بھی نہیں کہا، اور نہ کسی چیز کے کرنے پر آپ نے مجھے : کیوں کیا؟ کہا، اور نہ ہی کسی چیز کے چھوڑنےپر آپ نے مجھے کیوں چھوڑا کہا؟۔

رابعا: خادمین کے سلسلے میں ہمارے نبی ﷺ کی وصیت:

ارشاد نبوی ﷺ ہے: لا يرحم الله من لا يرحم الناس۔[متفق عليه]

’’جولوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتے‘‘

فائدہ:

مسلمانوں نے خاص طور پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نبی کریم ﷺ کی وصیت پر عمل کیا، یہانتک کہ ایک مستشرق نے نقل کیا ہے کہ رومی عورت جب اپنے فرزند کو دعا دینا چاہتی تھی تو وہ دعا میں کہتی تھی: اللہ تجھے کسی مسلمان مرد کا غلام بنائے۔۔اللہ اکبر۔

 پیارے دوستو!

خادمین، کمزور اور مسکینوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے وطن، اپنے ملک اور اپنے اہل وعیال اور بچوں کو چھوڑ کر رزق حلال کی کوشش میں یہاں پناہ لی ہیں، ان لوگوں کے لیے اجنبیت اور اہل و وطن سے دوری ہی کتنی بڑی مصیبت اور آزمائش ہے ، ہر روز ہم خودکشی کی تقریبا خبریں سنتے ہیں  جس کی وجہ اجنبیت اوروطن عزیز سے باہر کے سفر کی آزمائش کے بعد ظلم وزیادتی کا شکار ہونا ہے۔

پیارے بھائی !کیاآپ نے کسی دن اپنے نفس سے یہ پوچھا: کیا آپ اس طرح کی اجنبیت برداشت کرسکتے ہیں؟!!

ہم میں سے کوئی جب کسی ملک کا سیاحتی سفر کرتا ہے، اور پرشکوہ ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہے، اعلی قسم کے کھانے کھاتا ہے، لیکن اس کے باوجود ارض وطن، اپنے گھر اور اپنے اہل وعیال کی جانب واپسی کے لیے بے چین رہتا ہے۔۔جب آپ کا یہ حال ہے تو۔ ان بیچارے خادم مسکینوں پر کیا گذرتی ہوگی۔۔؟؟

ملاحظات:

۱۔ خادم یا خادمہ اجنبی ہیں، لہٰذا ماں، بیٹی کے لیے گھر کے خادم کے ساتھ تنہائی یا خلوت جائز نہیں ہے، اسی طرح باب اور بالغ بیٹوں کے لیے گھر کی خادمہ کے ساتھ تنہائی جائز نہیں ہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے:

لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم

’’کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے، ہاں عورت کے ساتھ اس کا محرم ہو‘‘

اس سلسلے میں لاپرواہی شرور اور فساد کا عظیم باب کھولنے کے مترادف ہے۔
۲۔اسی طرح خادمہ کو دیکھنا، گھر کی خواتین کا خادم کے سامنے  ستر کا ظاہر کرناناجائز ہے، کیونکہ یہ اجنبی ہیں، اور یہ دونوں غیر کے حکم میں شامل ہے۔

اخیر میں: اے مسلمانو!

کیا ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکرگذار نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے ہمارے لیے خادمین مہیا فرمائے، کیا ہوتا اگر ہم فقیر ہوتے، مجبور وبے بس ہوتے، اگر ہماری مائیں، ہماری بیٹیاں اور ہماری بہنیں دوسروں  کے پاس خادم ہوتیں، کیا ہمیں ہمارے ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں کے لیے اس طرح کے فقر  سے خوشی ہوگی۔

خامسا: اب یہ خوشخبری سن لیجیے:

کمزروں اور مسکینوں کا اکرام اور ان کی عزت وتکریم  خیر اور برکتِ عظیم کی بشارت ہے، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم۔[البخاري]

’’تمہاری مدد نہیں کی جاتی اور تمہیں رزق نہیں دیا جاتا مگر تمہارے کمزوروں کی وجہ سے۔‘‘

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو منصف، عدل پرور اور کمزوروں، ضعیفوں، مسکینوں اور مظلوموں کی مدد کرنے والے بنا۔۔۔وہی ذات اس پر قادر ہے۔۔

وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.. وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.

 



 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي