نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  حج ) 

Post
15-9-2012 2194  زيارة   

 

 

 

آغاز کرتےہیں اللہ تعالیٰ کے نام سے ، تعریف ہے اس ذاتِ باری تعالیٰ کی جس کا فرمان ہے:

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيل [ ال عمران]

’’اور لوگوں پر اللہ کا حق یعنی فرض ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھتے  وہ اس کا حج کرے، ‘‘

اور درود وسلام ہو نبی پاک ﷺ پر جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے راستوں کو روشن کیا، آپ کے آل واولاد پر اور ان لوگوں پر درود وسلام ہو جنھوں نے آپ کی اتباع کی۔ وبعد:

نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: لاالہ الا اللہ اور محمد ﷺ کے رسول ہونے  کی گواہی دینا،نمازقائم کرنا، زکوۃ دینا، روزہ رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔[متفق علیہ]

اسلام پانچ ستونوں پر قائم ہے: اگر کوئی مسلمان اس میں سے ایک کا بھی انکار کردیتا ہے تو گویا وہ دین سے خارج ہوجائے گا۔

امیرالمومنین ابوحفص ، خلیفہ راشد اُم المومنین زوجہ نبی ﷺ کے والد محترم فاروق اعظم عمر بن خطاب ؓ نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور فرمایا: ’’إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك‘‘

(مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نفع ونقصان سے خالی ہے،اگر میں نبی کریم ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھتا تو کبھی بوسہ نہیں لیتا)  [متفق علیہ]

حج: جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ:

ارشاد نبوی ﷺ ہے :   ’’الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة‘‘

(حج مبرور کا بدل جنت ہی ہے)۔

حج:  ایک ایسا موقع ہے جو بار بار نہیں ملتا،، لہٰذا حج کے سلسلے میں جلدبازی سے کام لو۔۔

ارشاد ربانی ہے: وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ [ال عمران]

(اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔)

حج: دنیا ومافیھا سے بہتر ہے:

۱۔حج :گناہوں سے پاکی کا ذریعہ ہے: فرمان نبوی ﷺ ہے: " مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ‘‘

(جس نے حج كيا اور نہ تو حج ميں بيوى سے جماع كيا اور نہ ہى فسق و فجور تو وہ ايسے واپس پلٹتا ہے جيسے آج ہى اسے ماں نے جنم ديا ہے)۔[متفق علیہ]

۲۔حج: پچھلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے: فرمان نبوی ﷺ ہے:  ’’أَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ‘‘

(حج سابقہ گناہوں كو مٹا ديتا ہے)۔[مسلم]

۳۔ حج: افضل جہاد ہے: حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  نے کہا: اے اللہ کے رسول : ہم جہاد کو افضل ترین عمل سمجھتے ہیں تو کیوں ہم جہاد نہ کریں؟ آپ ﷺ فرمایا: نہیں، لیکن افضل جہاد تو حج مبرور ہے۔[ بخاری]

۴۔ حاجی کی دعا مقبول ہوتی ہے: نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:  الغازي في سبيل الله والحاج والمعتمر وفد الله دعاهم فأجابوه ، وسألوه فأعطاهم ( رواه ابن ماجه وانظره في السلسلة الصحيحة (1920) .

(اللہ کے راستے میں لڑنے والا غازی،حاجی، اور عمرہ کرنے والا شخص یہ اللہ کے وفد ہیں،اللہ نے انہیں بلایا تو انھوں نے دعوت قبول کی،پھر انھوں نے اللہ سے مانگا تو اللہ نے انہیں عطا کیا)۔

۵۔حاجی اللہ کی ضمان میں ہوتا ہے: نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

" ثَلاثَةٌ فِي ضَمَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَرَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَرَجُلٌ خَرَجَ حَاجًّا " . [صححہ الالبانی]

(تین قسم کے لوگ ہیں جو اللہ کی ضمانت میں ہوتے ہیں: ایک وہ آدمی جو اللہ کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی جانب نکلا، ایک وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے نکلا، اور ایک وہ آدمی جو حج کی نیت سے نکلا)۔

حدیث میں ضمان کا لفظ آیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان زندہ بچ جائے تو اسے اجر ملے گا، اور اگر موت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوگا۔

حج کی چند حکمتیں اور بے شمار فوائد ہیں: جن میں سے کچھ ہم یہاں ذکر کررہے ہیں:

اولا: حج میں ظاہری اور باطنی طور پر مساوات اور برابری کی مکمل تصویر عیاں ہوتی ہے۔

۱۔ظاہری طورپر اس طرح کہ تمام حاجی؛ممالک اورذائقہ وشوق  کے اعتبار سے بالکل مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی طرح کے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں، تمام حاجی کفن کے مشابے بالکل سادہ لباس پہنتے ہیں،شاہ وامیر بھی یہی پہنتا ہے اور مسکین وفقیر بھی، شاہ وامیر بھی بیت اللہ کا طواف کرتا ہے اور مسکین وفقیر بھی،حج کے موقع پر اربوں کھربوں کے مالک اور دینار درہم کے ضرورت مند کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا،بلکہ ہر ایک، ایک ہی عمل میں یکساں دکھائی دیتا ہے۔

۲۔ باطنی طور پر اس طرح کہ ، یہاں کسی  حسب ونسب اورکسی رنگ وجنس کی بنیاد پر کوئی اہمیت وفضیلت نہیں بلکہ فضیلت کا معیار خالص تقوی ہے، ارشاد نبوی ﷺ ہے:

’’لا فضل لعربي على عجمي ، ولا لعجمى على عربي ، ولا لأبيض على أسود . ولا لأسود على أبيض ، إلا بالتقوى ، الناس من آدم ، وآدم من تراب‘‘ ( رواه الترمذي (3270) وحسنه الألباني .

(كسى عربى كو عجمى ( غير عربى ) پر كوئى فضيلت نہيں، اور نہ ہى كسى عجمى كو عربى پر كوئى فضيلت حاصل ہے، اور نہ كسى سفيد رنگ والے كو كسى سياہ رنگ والے پر اور نہ كسى سياہ رنگ والے كو سفيد رنگ والے پر كوئى فضيلت حاصل ہے، مگر تقوى اور پرہيزگارى كے ساتھ، سب لوگ آدم كى اولاد ہيں اور آدم مٹى سے پيدا ہوئے۔)

ثانیا: حج میں ہم اسلامی اتحاد کو بہت واضح انداز میں دیکھتے ہیں، اتحادِ جذبات، اتحادِ شعائر، اتحادِ ہدف ومقصد، اتحاد ِعمل، اتحادِ قول اور  اتحادِ خطہ جیسے اتحاد سے متعلق تمام عناصر پائے جاتے ہیں، یہاں ذات پات، قومیت ، وطنیت،تحریکیت، اور جمہوریت جیسی خرابیوں کا شائبہ بھی نہیں ہوتا، بلکہ پوری امتِ مسلمہ ایک اسلامی امت کا نمایاں مظہر اور شان  ہوتی ہے۔

تمام حاجی ایک ہی رب پر ایمان رکھتے ہیں، ایک ہی گھر کا طواف کرتے ہیں، ایک ہی کتاب کو تھامےہوئے ہوتے ہیں، ایک ہی رسول کی اتباع کررہے ہوتے ہیں، ایک ہی عمل سرانجام دے رہے ہوتے ہیں، اور ایک ہی ہدف ومقصد کی امید لگائے ہوتے ہیں۔۔۔بھلا اس اسلامی وحدت اور اتحاد سے زیادہ گہرا اتحاد کہیں دکھائی دیتا ہے؟؟؟

ثالثا: حج میں بندے کے لیے وہ تمام عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں جو دیگر عبادات کے ساتھ نہیں ہوتی، مثال کے طور پر حج میں نماز، طواف، سعی، صدقات، ذکر، قرآن کریم کی تلاوت اور  وقوف عرفات یہ ساری عبادات ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حج کو اعظم العبادات کہا جاتا ہے۔

رابعا: حج میں انسان خواہشات کو ترک کرنے، اوطان کو ترک کرنے اور اہل وعیال کی جدائی اور رحمن کی اطاعت وفرمانبرداری کا عادی بنتا ہے۔

خامسا: حج میں صعوبتوں کو جھیلنے اور مصائب کو برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حج  کی ادائیگی کےلیے ایسے وادی کا انتخاب عمل میں آیا،جو ناقابل کاشت ہے، جو عمیق صحراء میں واقع ہے، جہاں حرارت اور شدت غالب آجاتے ہیں، اورانسان کو سادہ زندگی گذارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، یہ اس لیے تاکہ مسلمان کو مصائب اور شدائد پر برداشت کرنے کی تربیت ہو، اور سخت اورکڑوی زندگی سے مقابلہ کرسکے، اس حکمت کا انداز ہ یہاں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حج کو قمری سال کے اخیر میں رکھا،  ہم جانتے ہیں کہ سفر حج کبھی موسم گرما میں آتا ہے، اور کبھی موسم سرماں میں ، تاکہ مسلمان ہر قسم کی آب وہوا کو برداشت کرنے کے قابل ہو،اور تمام مشکلات کو جھیلنا اس کےلیے آسان ہو۔

وجوب حج:

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عمر میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض کیا، اور اسے اسلام کےپانچ ارکان میں شامل کیا، نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ  کا حج کرنا۔ [متفق علیہ]

اگر مسلمان کے پاس استطاعت وقدرت ہوتو حج کا بار بار کرنا مستحب ہے۔

ایک اللہ کے نیک بندے کا قول ہے: حج کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ مسلمان معاصی ومنکرات کو ترک کردیتا ہے، اور اپنے برے ساتھیوں کو نیک وصالح بناتا ہے،لہوولعب اور غفلت کی مجالس سے ذکر وبندگی کی مجالس سے منسلک ہوجاتا ہے۔

وجوب حج کے شرائط:

۱۔ اسلام                     ۲۔ بلوغت                     ۳۔ عقل            ۴۔آزادی (غلام پر حج فرض نہیں ہے)

۵۔قدرت واستطاعت  (مال ہو اور پرامن پہنچنے کے اسباب ہو)          ۶۔عورت  کے ساتھ محرم کا ہونا۔

پیارے دوست: اگر آپ مسلمان ہیں، بالغ ہیں، عقلمند ہیں، آزاد ہیں، صاحب استطاعت ہیں، تو پھر جان لیجیے:

آپ پر حج فرض ہے۔۔تو پھر آپ حج کیوں نہیں کرتے؟؟؟        کس چیز کا انتظار ہے؟؟؟

تاخیر کس بات کی؟ بھلا یہ تاخیر آخر کب تک؟ کیا آپ کو معلوم نہیں : فرصت اور مواقع بار بار نہیں ملتے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ موت اچانک آنے والی ہے؟

کل اپنے رب کو کیا جواب دوگے؟  کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پاس کوئی عذر نہیں ؟

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مَن أراد الحج فليتعجل‘‘[حسنہ الالبانی]

 (جس نے حج کا ارادہ کیا اسے چاہیے کہ جلدی کرے)۔

حج کے لیے جلدی کرو۔۔۔کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا!!!

پیارے بھائی: حج مبرور کی کوشش کیجیے۔۔۔جو نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ہو، جس میں مکمل اخلاص ہو، معاصی اور منکرات نہ ہو، ارشاد باری تعالیٰ ہے:  فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۔[بقرہ]

(تو حج کے دنوں میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے)

اور اخیر میں: پیارے بھائی حج سے واپسی کے بعد سب سے پہلے مسجد جائیے، اپنے اہل وعیال سے ملاقات سے قبل دو رکعت نماز پڑھیے، کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے:

’’كان عليه الصلاة والسلام إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فركع فيه ركعتين‘‘ [متفق علیہ]

(نبی کریم ﷺ جب سفر سے لوٹتے مسجد سے آغاز کرتے، پھر اس میں دو رکعت نماز پڑھتے)

ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ حج مبرور ، سعی مشکور اور ذنب مغفور کے ساتھ آپ کا  حج کرائے۔۔۔ پیارے بھائی!  اپنی دعاؤں میں ہمیں اور تمام مسلمانوں کو بھی ضرور یاد رکھیں۔۔والحمدللہ رب العالمین۔

ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی

 

اقرأ ايضا

حج


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي