نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  ویلنٹائن ڈے ) 

Post
27-9-2012 1616  زيارة   

 

حمدوصلوۃ کے بعد!

ارشاد باری تعالی ہے:

وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی ہے اور بری راہ ہے۔(اسراء:32)

ویلنٹائن ڈے

 چند برسوں سے ویلنٹائن ڈے کے نام سے موسوم یہود ونصاری کی یہ رسم ہمار ے معاشروں میں بھی منائی جارہی ہے، جس میں نوجوان مردوخواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کے تئیں اسلام کا حکم:

پیارے بھائیو!

محبت ومودت  اور اجتماعیت وہم آہنگی کی ترغیب جتنی دین اسلام میں دی گئی دنیا کے کسی اور دین میں نہیں دی گئی، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إذا أحب أحدكم أخاه فليعلمه انه يحبه۔

(جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے محبت کرے تو چاہیے کہ اپنے بھائی کو بتادے کہ اس سے محبت کرتا ہے، یعنی اس سے محبت کے تعلق کا اظہار کرے)  

مسلمان نہ صرف انسانوں سے محبت کرتا ہے بلکہ اس کے محبت کے حدود جمادات وحیوانات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

نوٹ:

دین اسلام میں جمادات نام کی کوئی شئی نہیں ہے، بلکہ اسلام کے مطابق ہر وہ شئی جس میں حیات ہے وہ اللہ تعالی کی پاکی بیان کرتی ہے اور اسے یاد کرتی ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ

اور مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔(الاسراء:44)

ایک حقیقت:

پیغمبر اسلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی انسانوں اور انسان کے علاوہ تمام مخلوقات سے محبت کرنے میں بے مثال ہے، مکہ کی سرزمین میں واقع جبل اُحد یعنی احد کے پہاڑ سے آپ اظہار محبت کرتے ہوئے فرماتے تھے: (ھذا احد یحبنا ونحبه) یہ احد کا پہاڑ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ متفق علیہ

دین اسلام میں محبت کسی وقت، جگہ اور کسی ایک شکل میں محصور نہیں ہے، بلکہ اسلام میں محبت عام ہے۔ اور محبت کے مختلف درجات ہیں، ایک محبت ، محبت عظمی ہے یعنی اللہ سے محبت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، صحابہ سے محبت اور مصلحین امت اور علماء دین سے محبت، الغرض دین میں محبت کی مختلف قسمیں ہیں۔ لفظ محبت کو مرد وعورت کے درمیان تنگ کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔

دو قابل توجہ حقیقتیں:

۱۔  دین اسلام تمام خامیوں سے پاک ایک کامل دین ہے، اور اس کے علاوہ تمام ادیان باطل ہیں، ایسا کیوں  نہ ہو؟ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالی نے ہمارے لیے پسند فرمایا، ارشاد ربانی ہے:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً (مائدہ:3)

ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

اب مسلمانان عالم کو کسی ویلنٹائن ڈے کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے کہ یہ دین اسلام کا حصہ نہیں ہے۔

۲۔ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہر وہ چیز جو نئی ہو ، یعنی کتاب وسنت سے ثابت نہ ہو ، دین اسلام میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔وہ سراسر قباحت وخباثت اور گندگیوں سے پُر ہے، اگرچہ اس کو اچھے سے اچھا نام دیا گیا ہو۔۔۔جیسےیومِ عاشقاں، محبت کا تہوار  یا ویلنٹائن ڈے وغیرہ کہا گیا ہو۔

یہ دور جھوٹ، کذب بیانی، فریب ودھوکہ دہی اور افواہوں کا دور ہے، آج شراب اور نشے کو روحانی مشروبات کا نام دیا جارہا ہے، زنا کو شخصی اور ذاتی آزادی کہا جارہا ہے، جھوٹ کو ڈپلومیسی کا نام دیا جارہا ہے، دین اسلام پر چلنے کو دہشت گردی، شدت پسندی اور عصبیت کہا جارہا ہے اور دین اسلام سے بے رخی کو ترقی، تہذیب اور ثقافت جیسے نام دیے جارہے ہیں۔اور فسق وفجور، بے حیائی وفحاشی کو محبت ومودت کا تہوار کہا جارہا ہے۔

محبت کے تہوار یعنی ویلنٹائن ڈے کی اساس شریعت کے خلاف ہے:

پیارے بھائیو!

۱۔ہرسال  فروری کی 14 تاریخ کو بہت سے لوگ محبت کے تہوار یعنی ویلنٹائن ڈے کے نام سے عید مناتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہ تہوار ویلنٹائن کے قتل کی یاد میں منایاجاتا ہے ، اس دن کی حقیقت جو بھی ہو، آخر ہم مسلمان ہیں، لہذا ہمیں شریعت مخالف تمام اعمال سے دور رہنا چاہیے نیز ایسے مواقع اور تقریبات سے بچنا چاہیے جن میں یہودیوں اور نصاری کی تقلید شامل ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:     وَخَالِفُوا اليَهُودَ والنَّصَارَى

ترجمہ: یہودونصاری کی مخالفت کرو۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

من تشبه بقوم فهو منهم" رواه أحمد (3/50) وأبو داود (5021)

جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے۔

یاد رہے کہ ویلنٹائن ڈے نصاری کا تہوار ہے۔

۲۔ یہ تہوار سراسرکذب، جھوٹ اور دجل وفریب پر مبنی ہے، اسے محبت کا تہوار نام دینا فسق وفجور کی ترغیب دینے اور اسے عام کرنے کے باب سے ہے۔

۳۔ اس تہوار سے گناہوں پر آمادگی اور رذیل وخراب عادات کی اشاعت ہوتی ہے، مشاہدے سے  یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ دن فجور، فحاشی،اور علانیہ گناہوں کے ارتکاب کا دن منایا جاتا ہے، ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی اس موقع پر انجام دی جانے والی سرگرمیاں واضح ثبوت ہیں۔

۴۔ویلنٹائن ڈے یا محبت کا تہوار دین اسلام کےپیش کردہ محبت کی حقیقت کو زد پہنچاتا ہے، اسلام عشق ومحبت کے خلاف نہیں ہے لیکن اُس نے اس جذبے کو ایک پاک اور ذمہ دارانہ زنجیر میں پرویا ہے، لہذا جسے کسی عورت سے محبت ہوجائے تو اُ س پر ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اسے نکاح کا پیغام بھیجے اور نکاح کے بعد اللہ تعالی  کے حکم اور سنت رسول اللہ کی روشنی میں علانیہ طور پر اپنی محبت کا اظہار کرے۔

اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے کہ مرد وعورت خاموشی میں ، رات کے چوروں کی طرح ناجائز طریقے سے اپنی خواہشات پوری کریں۔

۵۔ ویلنٹائن ڈے:

یہ تہوار ، زناکاری اورفحاشی کا ایک باب ہے، اسلام  نے انسان کے حسب ونسب اور انسانی معاشرے کو باہم مربوط وہم آہنگ رکھنے کے لیے زنا اور زنا کے باعث بننے والے تمام راستوں کو مسدود کرتے ہوئے، اسے حرام قرار دیا ہے، ارشاد ربانی ہے:

وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی ہے اور بری راہ ہے۔(اسراء:32)

۶۔ویلنٹائن ڈے ، منہج اسلام کے خلاف ہے:

اعداد وشمار سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کیئے جانے والے نکاح میں دوام اور ثبات ہے، اور نکاح سے قبل ناجائز تعلقات کی بناء پر ہوئے نکاح کثرت سے ناکام ہوجاتے ہیں۔یعنی اس طریقے سے کئے گئے نکاح کا انجام طلاق ہوتا ہے، کیونکہ یہ تعلق اللہ تعالی کی ناراضی کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، مزید یہ کہ شہوت ولالچ کے سبب ایسے نکاح کے بعد طرفین یعنی مرد وعورت کے درمیان ہمہ وقت جھوٹ وکذب کا موقف ہوتا ہے، اور آہستہ آہستہ ہرایک کے سامنے حقائق کے پردے اٹھتے ہیں۔

ایک اہم وارننگ:

مردوعورت کے درمیان ناجائز تعلقات میں حقیقی طور پر عورت ہی کو سب سے زیادہ خسارہ اٹھانا پڑتا ہے، لہذا پیاری بہن۔۔۔۔ پیاری بیٹی۔۔۔۔خبردار رہو

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

’’لا يخلونَّ رجل بامرأةٍ إلا ومعها ذو محرَم ‘‘ رواه البخاري ( 5233 ) ومسلم (1341 )

 ترجمہ: تم میں سے کوئی کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے مگریہ کہ اس کے ساتھ محروم ہو۔

ملاحظہ:

۷۔ ویلنٹائن ڈے:

یہ دن منانا اور اس میں شریک ہونا، تباہ کن اور مکروفریب پر مشتمل افواہوں کی پیروی کرنا ہے،ذرائع ابلاغ  اور اس سے وابستہ حضرات اس طرح کی غیراخلاقی رسومات کے ذریعے اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔لہذا اس موقع پر ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے تقسیم کئے جانے والے کارڈ، ہدایا، اور تحفہ وتحائف خریدوفروخت کرنا حرام ہے۔

ایک اپیل:

ہم ، تمام والدین، سرپرستان، اساتذہ کرام، اورذرائع ابلاغ اور اس سے وابستہ حضرات کو آگاہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی نئی نسل کو اس طرح کے فحش ومعیوب تقریبات سے بچائے۔

ارشاد ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ

ترجمہ: مومنو! اپنے آپکو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے اور جس پر تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں وہ کسی حکم کی جو اللہ انکو دیتا ہے نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انکو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔)تحریم:(6

اخیرمیں ویلنٹائن ڈے سے متعلق شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیے:

سوال: آج کل طالبات میں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات عام ہوگئی ہے، حالانکہ یہ نصاری کا ایک تہوار ہے، اس موقع پر طالبات سرکے بالوں سے لے کر پیر کے جوتوں تک مکمل طور پر سُرخ رنگ کے لباس زیب تن کرتی ہیں ، اور ایک دوسرے کو سرخ پھولوں کا ہدیہ پیش کرتی ہیں، آن محترم سے امید ہے کہ اس جیسے تہواروں کی تقریبات میں شرعی حکم بتاتے ہوئے مسلمانوں کواپنی نصائح سے مستفید فرمائیں گے۔

الجواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:

ویلنٹائن ڈے منانا چند وجوہات کی بناء پر جائز نہیں ہے:

۱۔ یہ تہوارایک بدعت ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔

۲۔ اس تہوار سے ناجائز عشق ومحبت کا پیغام عام ہوتا ہے۔

۳۔اس طرح کے مواقع سلف صالحین کے طریقوں کے خلاف ہیں، جن سے دل معمولی چیزوں میں مصروف ہوجاتا ہے، اس دن عید کے شعائر یعنی کھانا پینا، نئے کپڑوں کا زیب تن کرنا اور مبارکباد دینا، کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ اپنے دین پر مضبوطی سے کاربند رہے، اور ابن الوقت کی طرح ہر شوروغل مچانے والے کی پیروی نہ کرے، اللہ تعالی مسلمانوں کی ظاہری وباطنی  فتنوں سے حفاظت فرمائے اور ہم سب کو اپنی ذمہ داری میں لے۔انتہی۔

وجزاکم اللہ خیرا

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اقرأ ايضا

یوم ماں (مدرڈے)


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي