نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ) 

Post
2-10-2012 1804  زيارة   

الحمد لله، والصَّلاة والسَّلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، أمَّا بعد: ہمارے سامنے ایسی شخصیت کی سیرت ہے،انبیاء اور مُرسلین کے بعد جس سے بہتر انسان پر کبھی سورج طلوع ہوا اور نہ غروب ہوا۔ایسے تاریخ ساز انسان کی سیرت جس نے اپنے ایمان کو ساری امت کے ایمان سے موازنہ کیا۔جس نے اپنا سارا مال راہ خدا میں لٹادیا، اس سے کہا گیا: اپنے اہل وعیال کے لیے کیا چھوڑا؟ تو رب تعالیٰ پر بھرپور اعتماد کے ساتھ کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور رسول چھوڑے ہیں۔وہ کون ہے؟ وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کا اسم گرامی عبداللہ بن عثمان بن عامر ہیں، آپ والد اور والدہ کی جانب سے نسباً قرشی اور تیمی ہیں، آپ کریم النفس، بہادر، مستقل مزاج، ہر چھوٹے بڑے معاملے میں صحیح فیصلہ لینے والے، معاف کرنے والے ، صبر کے پیکر، ہمت کے پکے، فقیہ، انساب وعلمِ تاریخ کے عالم،اللہ پر اور اس کے وعدوں پر بہت زیادہ بھروسہ وتوکل کرنے والے،متقی وپرہیزگار، برائیوں سے دور رہنے والے، دنیا سے بے نیاز ،آخرت کی نعمتوں کے خواہاں خود بھی جڑنے والے اور دوسروں کو بھی جوڑنے والے انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔ (ترتيب وتهذيب البداية والنِّهاية، لابن كثير ص: 17) ابن جوزی کہتے ہیں: جان لو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پرہیزگاری، تقوی، اللہ کے خوف، زہد، دنیا سے بے رغبتی، تواضع اور اللہ کے سامنے گڑگڑانے میں مشہور تھے، جب آپ کو خلیفہ بنایا گیا، توصبح سویرے بازار نکلے، خلافت سے پہلے آپ محلے کے لوگوں کے لیے اپنی بیکریوں کا دودھ دوہتے تھے، جب آپ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو محلے کی ایک پڑوسن نے کہا: اب آپ ہمارے لیے دودھ نہیں نکالیں گے، آپ نے کہا: کیوں نہیں میں تمہارے لیے ضرور بکریوں کا دودھ نکالوں گا، اور مجھے امید ہے کہ خلافت کی ذمہ داری مجھے بدل نہ ڈالے، تمام صحابہ کو آپ کے فضل ومقام کا اعتراف تھا۔(التَّبصرة 1/400) صاحبِ مروت وفضل: حضرت صدیق ؓ زمانہ جاہلیت میں بھی صاحب ِمروت وصاحبِ عزیمت شخصیت تھے،آپ نے کبھی شراب نہیں پی، اور کبھی قبیح اعمال کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اسلام کے پہلے مرد: حضرت ابوسعید خدری ؓ خلافت ابوبکر کے قصے کو روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ابوبکر ؓ نے کہا: کیا میں پہلا مسلمان نہیں ہوں؟ کیا میں یہ نہیں ہوں؟ کیا میں اس طرح اس طرح نہیں ہوں؟ (ترمذی) حضرت ابوبکر کا اسلام لانا دیگر صحابہ کے مقابلے میں دین اسلام اور مسلمانوں کے لیے عظیم نفع کا باعث ہوا؛ دعوت دین میں آپ کے مقام ومرتبہ اور کوششوں کی وجہ سے، آپ کے ہاتھ پر متعدد مشاھیر صحابہ نے اسلام قبول کیا،جن میں عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبیداللہ وغیرہ صحابہ کرام نے آپ کی ہی دعوت پر دین اسلام قبول کیا، جس دن حضرت ابوبکر ؓ نےاسلام قبول کیا اس دن آپ کے پاس چالیس ہزار درھم رقم تھی ، آپ ؓ نے پوری رقم اللہ کی راہ میں خرچ کردی تھی۔ اسی طرح آپ ؓ کے ہاتھ پر ان متعدد غلاموں نے اسلام قبول کیا، جنھیں دین اسلام قبول کرنے پر سخت ایذائیں پہنچائی گئیں،جیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ وغیرہ، سرزمین مکہ میں حضرت ابوبکر ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہی رہے، اسی طرح نبی کریم ﷺ جب مدینہ کی جانب ہجرت کے لیے نکلے تو ابوبکرؓ بھی آپ کے ساتھ ہوگئے اور غار میں آپ کے ہمراہ رہے، اسی طرح غزوات میں بھی نبی کریم ﷺ کے ہمراہ رہے، بدر، احد، خندق، فتح، حنین اور تبوک میں آپ ﷺ کے ہمراہ رہے۔(تهذيب البداية ص: 17) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب: آپ ؓ کے فضائل ومناقب میں آیات قرآنی اور حادیث نبویہ وارد ہوئے ہیں، جیسے ارشاد باری تعالی ہے: - وَسَيُجَنَّبُهَا الأتْقَى (17) الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى (18) وَمَا لأحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (19) إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الأعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى [الليل: 17-21] (اور جو بڑا پرہیزگار ہے وہ اس سے بچالیا جائے گا، وہ اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو، اور اس لیے نہیں دیتا کہ اس پر کسی کا احسان ہے جس کا بدلہ اتارا جائے،بلکہ اپنے ربِ اعلی کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے، اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا۔) ابن جوزی فرماتے ہیں: علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر ؓ کی شان میں نازل ہوئیں، اور ان آیات میں یہ وضاحت ہے کہ ابوبکر پوری امت میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے۔ اسی طرح فرمان باری تعالیٰ ہے: ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنْـزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا [التَّوبة: 40] (آپ دو میں سے دوسرے تھے ، جب وہ دونوں (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ)غار میں تھے ، جب (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پیارے سے فرماتے تھے ، غم نہ کر ، بیشک اﷲ ہمارے ساتھ ہے تو اﷲ نے اس پر اپنی تسکین نازل فرمائی)۔ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں صاحب سے مراد حضرت ابوبکر ہی ہے۔ اور فرمان باری تعالیٰ ہے: وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ [الزُّمر: 33] (اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے انکی تصدیق کی، یہی ڈر نے والے ہیں) بزار اور ابن عساکر سے منقول ہے کہ حضرت علی ؓ نے آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: الذی جاء بالصدق سے مراد نبی کریم ﷺ ہے، اور والذی صدق بہ سے مراد حضرت ابوبکر ؓ ہے۔ صدیق اکبر کی شان میں احادیث رسول: صدیق اکبر ؓ کی شان میں بے شمار احادیث رسول وارد ہیں: ۱۔حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے، کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا، کہ لوگوں میں سب سے زیادہ آپ کو کون محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ، میں نے کہا: مردوں میں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے والد۔(متفق علیہ) ۲۔محمد بن حنفیہ ؓ سے مروی ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد علی ؓ سے پوچھا: نبی کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ تو انھوں نے کہا: ابوبکر، تو میں نے کہا: پھر کون؟ آپ ؓ نے فرمایا: عمر، مجھے ڈر ہوا کہ وہ عثمان کہتے، پھر میں نے کہا: پھر آپ ؟ (یعنی حضرت علی) تو علی ؓ نے کہا: میں کچھ بھی نہیں صرف ایک(عام) مسلمان ہوں۔(بخاری) ۳۔حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إنَّه ليس من النَّاس أحد ٌأمن علي في نفسه وماله من أبي بكر بن أبي قحافة، ولو كنت متخذًا من النَّاس خليلًا لاتخذت أبا بكرٍ خليلًا، ولكنَّ خلة الإسلام أفضل، سدوا عنِّي كلّ خوخة في هذا المسجد غير خوخة أبي بكر» [متفقٌ عليه] (کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں جانی دوست بناتا تو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو بناتا۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے۔ دیکھو ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔۔) ۴۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «من أنفق زوجين في سبيل الله نودي من أبواب الجنَّة: يا عبد الله هذا خير، فمن كان من أهل الصَّلاة دُعي من باب الصَّلاة، ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد، ومن كان من أهل الصِّيام دُعي من باب الرَّيان، ومن كان من أهل الصَّدقة دُعي من باب الصَّدقة. فقال أبو بكر -رضي الله عنه-: بأبي وأمِّي يا رسول الله، ما على من دعي من تلك الأبواب من ضرورةٍ، فهل يدعى أحدٌ من تلك الأبواب كلِّها؟ قال: نعم، وأرجو أن تكون منهم۔ [متفقٌ عليه] (جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا جو مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے جو روزہ دار ہو گا اسے ”باب ریان“ سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہو گا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ ان دروازوں (میں سے کسی ایک دروازہ) سے بلائے جائیں گے مجھے ان سے بحث نہیں، آپ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔) ۵۔حضرت ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے کہا جب وہ دونوں غار میں تھے: ’’يا أبا بكر! ما ظنُّك باثنين الله ثالثهما‘‘ [متفقٌ عليه] اے ابوبکر! تمہارا اُن دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ ۶۔حضرت انس ؓ سے مروی ہے: کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’أرحم أمَّتي بأمَّتي أبو بكر‘‘.. [رواه ابن ماجه 125]۔ (میری امت میں سب سے زیارہ رحم کرنے والا ابوبکر ہے۔) ۷۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکر،عمر اورعثمان رضي اللہ تعالی عنھم اُحد پہاڑ پر چڑھے توپہاڑہلنے لگا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اثبت أحد فإنَّما عليك نبيٌّ وصديقٌ وشهيدان» ‘‘ اے احد ثابت رہ اورسکون اختیارکر اس لیے کہ تجھ پرنبی اورصدیق اور دوشھیدہیں۔ [رواه البخاري 3686] ۸۔حدیث ابودرداء میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے درمیان ہوئی تلخ بات چیت کے بعد ارشاد فرمایا: ’’إنَّ الله بعثني إليكم فقلتم كذبت، وقال أبو بكر: صدق، وواساني بنفسه وماله، فهل أنتم تاركوا لي صاحبي ‘‘ اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا۔ تم لوگوں نے کہا : آپ غلط کہتے ہیں۔ اور ابوبکر نے کہا: حضورﷺ سچے ہیں۔ اُس نے اپنی جان اور مال کے ساتھ میری دلجوئی کی۔ تو کیا تم میرے لئے میرے ساتھی سے درگزر کرسکتے ہو؟‘‘ آپﷺ نے یہ جملہ دوبار ارشاد فرمایا ۔ اس کے بعد کبھی کسی نے ابوبکررضی اللہ عنہ کا دل نہیں دُکھایا۔[رواه البخاري 3661] ۹۔آپ ؓ کی خلافت پر دلالت کرنے والے صحیح نصوص: ۱۔ جبیر بن مُطعم سے مروی ہے، کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر آئیو۔ اس نے کہا: اگر میں آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’إن لم تجديني فأتي أبا بكر‘‘ کہ اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی آنا۔ [متفقٌ عليه] ۲۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض موت میں مجھ سے کہا: ادعي لي أبا بكر وأخاك حتَّى أكتب كتابًا، فإنِّي أخاف أن يتمنى متمن ويقول قائل: أنا أولى، ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر (اپنے باپ ابوبکر اور اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو میرے پاس بلاؤ ، تاکہ میں انہیں تحریر لکھوا دوں ، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ (خلافت کی) تمنا کرنے والے تمنا کریں گے اور کہنے والا کہے گا کہ میرے سوا اور کوئی نہیں۔ جبکہ اللہ اور تمام مومنین ابوبکر کے علاوہ سب کا انکار کرتے ہیں۔) [رواه البخاري 2387] ۳۔ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے، آپ کا مرض شدید ہوا، توآپ نے ارشاد فرمایا: ’’مروا أبا بكر فليصلِّ بالنَّاس‘‘ (اور ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے) [متفقٌ عليه] حدیث ابو زمعہ میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں نماز کا حکم دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، تو حضرت عمر آگے بڑھے، اور نماز پڑھانے لگے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فأين أبو بكر؟ يأبى الله ذلك والمسلمون‘‘ ابوبکر کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ اور تمام مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں۔ [رواه أبو داود: 4660] ابن عساکر کی روایت میں حضرت علی کا قول نقل ہے: نبی کریم ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، میں موجود تھا، میں غائب نہیں تھا، اور نہ ہی میں بیمار تھا، تو ہم راضی ہوئے ہماری دنیا کے لیے جس سے نبی کریم ﷺ ہمارے دین کے لیے راضی ہوئے۔ ابوبکر ؓ کی فضیلت میں صحابہ، آل بیت اور سلف صالحین کے اقوال: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار نے بلال کو آزاد کیا۔ [رواه البخاري] اور آپ ؓ نے فرمایا: ’’میری خواہش ہے کہ میں ابوبکر کے دل کا ایک بال ہوتا‘‘ [أخرجه مسدد] اور علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم ہیں، کسی مومن کے دل میں مجھ سے محبت اور ابوبکر وعمر کے ساتھ بغض جمع نہیں ہوسکتے‘‘[رواه الطبراني في الأوسط] خصوصیات: امام شعبی رحمہ اللہ نے روایت کیاہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے چار ایسی خصوصیات سے متصف فرمایا جن سے کسی اور کو سرفراز نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صدیق کے نام سے نوازا، اور آپ کے علاوہ کسی کو صدیق نہیں کہا، آپ ؓ کو صاحب غار ہونے کا شرف حاصل ہے، اسی طرح آپ ؓ کو رفیق ہجرت کا بھی شرف حاصل ہے، اور چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کی موجودگی میں نبی کریم ﷺ نے آپ کو مسلمانوں کی امامت کا حکم دیا۔ حاکم میں حضرت مسیب سے مروی ہے فرماتے ہیں: ’’ابوبکر ؓ کا نبی کریم ﷺ کے پاس وزیر کی حیثیت سے درجہ تھا، آپ ﷺ حضرت ابوبکر سے تمام معاملات میں مشورہ کرتے تھے، اسلام میں آپ کا دوسرا مقام تھا،غار میں بھی نبی کریم ﷺکے بعد آپ ہی تھے، بدر کے دن بھی سائبان میں نبی کریم ﷺ کے بعد دوسرے فرد آپ ہی تھے، قبر میں بھی (روضہ نبوی میں)نبی کریم ﷺ کے بعد آپ ہی کو رکھا گیا اور آپ ﷺ نے آپ کے مقابلے میں کسی کو آگے نہیں بڑھایا‘‘۔ (تاريخ الخلفاء، للسّيوطي ص56) دوران خلافت آپ رضی اللہ عنہ کے کارہا ئے نمایاں: • جیش اسامہ کی تیاری۔ • مرتدین اور مانعین زکوۃ کے خلاف اعلان جنگ۔ • مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ۔ • قرآن کریم کو جمع کرنے کا منصوبہ • عراق وشام میں فتوحات کا آغاز حضرت ابوبکر کی اولیت وفوقیت: • مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ • قرآن کوسب سے پہلے جمع کرنے والے۔ • سب سے پہلے آپ نے ہی قرآن کو مصحف کہا۔ • سب سے پہلے آپ ہی کو خلیفہ کہا گیا۔ • سب سے پہلے آپ نے ہی بیت المال کا نظام جاری کیا۔ • اسلام میں سب سے پہلے آپ کو ہی عتیق کے لقب سے نوازا گیا۔ (تاريخ الخلفاء ص73-74) آپ رضی اللہ عنہ کی شجاعت: حضرت عروہ بن زبیر سے مروی ہے فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمروبن عاص سے دریافت کیا کہ مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا کون سی دی تھی؟ تو انھوں نے کہا کہ اس دوران کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا زور سے گھونٹا، اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور انھوں نے اس کا کندھا پکڑ کر اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ کیا اور کہا ’’کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے .... پوری آیت۔‘‘(المومن: 28)» [رواه البخاري 4815] حضرت ابوبکر کا سب سے بڑا کارنامہ مرتدین سے جہاد اور ان کے فتنے کا مکمل انسداد آپ کی شجاعت وبہادری کی عظیم دلیل ہے، آپ نے کہا تھا: ’’اللہ کی قسم! اگر وہ نبی کریم ﷺ کو اپنے اونٹوں کی رسی بھی زکوۃ کے ساتھ دیا کرتے تھے اور اب وہ بھی دینے سے انکار کرتے ہیں تو میں ضرور اس کے لیے بھی ان سے جنگ کروں گا‘‘۔ آپ رضي الله عنہ کا زہد ورع: سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے وصال کے وقت اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پیالہ جس میں ہم کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں، ان تین چیزوں کے سوا میرے پاس بیتُ المال کی کوئی چیزنہیں۔ ان چیزوں سے ہم اسوقت تک نفع لے سکتے تھے جب تک میں امورِ خلافت انجام دیتا تھا۔ میرے انتقال کے بعد تم ان چیزوں کو عمر کے پاس بھیج دینا۔ آپ کے وصال کے بعد جب یہ چیزیں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو واپس کی گئیں تو انہوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم کرے۔ انہوں نے اپنے جانشین کو مشقت میں ڈال دیا۔ آپ ؓ کا تواضع اور انکساری: ابن عساکر نے ابو صالح الغفاری سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ بعض کے سے کے ایک علاقے میں ایک نابینا بڑھیا کی رات کے اوقات میں دیکھ بھال کرتے تھے، اسے پانی پہنچاتے تھے اور اس کی ضروریات کی تکمیل کرتے تھے، ایک مرتبہ جب آپ اس کے پاس اس کی مدد کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ کسی اور شخص نے آپ سے پہلے اس کی خدمت کرلیا ہے، حضرت عمر اس شخص کی گھات میں بیٹھ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ابوبکر ہیں، جب کہ آپ اس وقت خلیفہ تھے۔ آپ ؓ کی بلند ہمتی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’من أصبح منكم اليوم صائمًا؟ قال أبو بكر -رضي الله عنه-: أنا، قال: فمن تبع منكم اليوم جنازةً؟ قال أبو بكر -رضي الله عنه-: أنا، قال: فمن أطعم منكم اليوم مسكينًا؟ قال أبو بكر -رضي الله عنه-: أنا، قال: فمن عاد منكم اليوم مريضًا، قال أبو بكر -رضي الله عنه-: أنا، فقال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم-: ما اجتمعن في امرئٍ إلا دخل الجنَّة‘‘[رواه مسلم 1028] ( تم میں سے آج کون روزہ دار ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی، میں ہوں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے آج کس شخص نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی، میں نے۔ پھر ارشاد ہوا،تم میں سے آج کس شخص نے مریض کی عیادت کی؟ آپ ہی نے عرض کی، میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص میں (ایک ہی دن میں)یہ اوصاف جمع ہونگے وہ جنتی ہو گا۔) آپ ؓ کا راہ خدا میں خرچ کرنا: حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲا نے ہمیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ اس وقت میرے پاس کافی مال تھا ، میں نے کہا کہ اگر کسی روز میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ سے سبقت لے جاسکا تو آج کا دن ہوگا۔ پس میں نصف مال لے کر حاضر ہوگیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھر والوں کے لئے کتنا چھوڑا ہے؟عرض گزار ہوا کہ اس کے برابر۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اپنا سارا مال لے آئے تو فرمایا ، اے ابو بکر اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے؟ عرض گزار ہوئے ، ان کے لئے اﷲ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں ۔ میں نے کہا ، میں ان سے کبھی نہیں بڑھ سکتا۔ [رواه أبو داود 1678 والتِّرمذي 3675 ] اللہ تعالیٰ ابوبکر سے راضی ہوا اور انھیں راضی کیا، اے اللہ ہم آپ کو ابوبکر ؓ اور تمام خلفاء راشدین اور تمام صحابہ سے ہماری دلی محبت کا گواہ بناتے ہیں۔ وصلَّى الله وسلَّم وبارك على نبيِّنا محمَّدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين. إعداد/ القسم العلمي بمدار الوطن اردو ترجمہ وترخیص: مبصرالرحمن قاسمی


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي