نود لفت انتباه الإخوة زوار الموقع ان هذه النسخة هي نسخة تجريبية للموقع بشكله الجديد , للابلاغ عن اخطاء من هنا

المطويات  (  عيد الأضحى مبارك ) 

Post
24-10-2012 1464  زيارة   

 

بسم اللہ۔۔۔الحمدللہ ۔۔والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آله وصحبه ومن والاه ۔۔اما بعد!

 

ہم آپ کو عید الاضحی کی مبارکباد  پیش کرتے ہیں۔ آپ  سدا  خوش رہیں اور اللہ تعالیٰ ہم سب کے اعمالِ صالحہ قبول فرمائے۔

 

اسلام میں عید کا تصور جاہلیت کی تمام رسومات کا خاتمہ ہے۔

نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو ان دنوں اہل مدینہ کے نزدیک دو دن تھے، جس میں وہ کھیلتے اور خوشیاں مناتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان سے بہتر بدل عطا کیا، اور وہ عید الفطر اور عید الاضحی ہیں۔ (صحیح ابن حجر)

پیارے بھائیو!  ہماری عیدیں اگر نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ہوں تو ہی جائز اور درست ہیں ، اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ آپ کو یوم عرفہ اور عید الاضحی کے موقع پر کیئے جانے والے بعض اُن اعمال  کی یاددہانی کرائیں جو سنت سے ثابت ہیں۔ لہٰذا ذیل کی سطور ملاحظہ فرمائیں:

۱۔ تکبیر: عرفہ کے دن کی فجر سے  ایام ِتشریق کے آخری دن کے غروب ِشمس تک  یعنی عید کے چوتھے دن تک تکبیر کہنا سنت ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: (ان ایام میں تسبیح، تکبیر اور الحمدللہ اور لاالہ الا اللہ کثرت سے پڑھو) (فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد) حسن ابن حجر  

اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور شکر میں اور خوشی ومسرت کے اظہار میں مرد حضرات مساجد، بازاروں،گھر اور پنج وقتہ نمازوں کے بعد بآواز بلند تکبیر کہیں جبکہ خواتین آہستہ آواز میں تکبیر کہتی رہیں۔

۲۔ نماز عید کا اہتمام  کریں، عید کی نماز ضائع نہ کریں، اس موقع پر کثرت سے تکبیر پڑھنے کا اہتمام کریں، نیز عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھیں، عید کے لیے پیدل چل کر جائیں، اگر ممکن ہوتو ایک راستے سے جائیں اور دوسرے راستے سے لوٹیں۔عورتوں کا بغیر فیشن، بغیر عطر اور بغیر زیب زینت  کے عید گاہ میں حاضر ہونا مستحب ہے۔(حائضہ خواتین خطبہ میں حاضر ہوں، لیکن  نماز نہ پڑھیں)

۳۔غسل کرنا اور پاکیزہ خوشبو کا استعمال : عید کے موقع پر اچھے اور خوبصورت کپڑے زیب تن کریں، اسراف سے بچیں، کپڑے ٹخنوں سے نیچے لٹکنے والے نہ ہوں، اسی طرح داڑھی بھی نہ منڈوائیں۔

۴۔ عید کی دو رکعت ہیں: پہلی رکعت تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر  سات تکبیروں کے ساتھ شروع کریں،اور دوسری رکعت قیام کی تکبیر کے علاوہ پانچ تکبیروں سے شروع کریں، امام دو رکعت پر  سلام کے بعد  لوگوں  کے سامنے خطاب کرے۔

ملاحظہ: خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا مستحب ہے، اسی طرح خطبہ سنے بغیر عید گاہ سے باہر نہ نکلنا بھی مستحب عمل ہے۔

۵۔ عید کی مبارکباد: عید کے موقع پر اس طرح مبارکباد کا اظہار کریں: اللہ تعالیٰ ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے، یا عربی الفاظ : تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال وغیرہ کہیں۔

۶۔ اس موقع پر صلۂ  رحمی کریں، بچوں میں خوشی ومسرت  پیدا کریں اور خود بھی خوشی کا اظہار کریں۔

 مسلمانوں کی صرف دو ہی عیدیں ہیں:عید الاضحی اور عید الفطر کے علاوہ جتنی بھی خود ساختہ عیدیں ہیں سب بے بنیاد ہیں، جن کا کتاب وسنت سے کوئی ثبوت نہیں۔

۷۔قربانی:

۱۔ قربانی کی ترغیب دینا: (نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے دو فربہ اور سیا ہ وسفید  مینڈھوں کی قربانی فرمائی ایک اپنی جانب سے اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔) متفق  علیہ

ملاحظہ: ایک مینڈھا یا بکری گھر کے ذمہ دار اور اہل خانہ کی طرف سے کافی ہے، اگر مزید ہوتو زیادہ بہتر ہے۔اونٹ اور گائے گھر کے سات افراد کی طرف سے کافی ہے۔

حضرت جابر فرماتے ہیں: حدیبیہ کے سال ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اونٹ کی سات  افرادکی طرف سے اور گائے کی  بھی سات کی طرف سے قربانی کی۔ مسلم

فائدہ: ارشاد ربانی ہے:

وَلا تَأْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَیْهِ ۔ انعام

(اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ)

سائنس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیے گئے  گوشت  میں جراثیم اور بیکٹیریا  اتنی رفتار سے نہیں پھیلتے جتنی رفتار سے ذبح کے وقت بغیر تکبیر کہے ہوئے گوشت میں پھیلتے ہیں۔ اللہ اکبر

۲۔ قربانی کا جانور کیسا ہو: قربانی عبادت ہے، لہٰذا عبادت اچھے سے اچھے اسلوب اور حال میں ہونا چاہیے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے: قربانی میں کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر، مریض جس کا مرض ظاہر ہو اور لاغر جس کی ہڈیوں میں بالکل گودا نہ ہو (ایسا جانور) جائز نہیں ہے۔نسائی

۳۔ قربانی کرنے کی مدت: چار دن تک یعنی عید کا دن اور ایام تشریق کے تین دن تک قربانی کی جاسکتی ہے۔نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ کا فرمان ہے: ایام تشریق کے  تمام دنوں میں ذبح کیا جاسکتا ہے۔

(كل أيام التشريق ذبح") احمد

۴۔ قربانی کا وقت: قربانی کے لیے افضل وقت عید کی نماز کے فورا ًبعد ہے، لیکن نماز سے قبل قربانی صحیح نہیں ہے، ارشاد نبوی ﷺ ہے: (عید کے دن کی سب سے پہلی عبادت  یہ ہے کہ ہم نماز سے آغاز کریں، پھر لوٹ کر قربانی کریں، جس نے ایسا کیا اس نے سنت کی پیروی کی، اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا، تو وہ اپنے اہل خانہ کے لیے ایک چیز ہے جس کے سلسلے میں جلدی کی گئی، اور اس کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں) متفق علیہ

۵۔قربانی کی جگہ: قربانی کے لیے افضل ترین جگہ اگر سہولت ہوتو عیدگاہ ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ عید گاہ میں ذبح کرکے قربانی کرتے تھے۔ بخاری

فائدہ: لفظ ذبح  کا اطلاق بکری، گائے، اونٹ وغیرہ پر ہوتا ہے۔

۶۔ قربانی کا گوشت تناول کرنا:  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۔(حج)

تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔

عید کے موقع پر کیئے جانے والے خلاف شریعت  اعمال:

·       عید کی رات میں جاگنا اور عید کے دن کی نماز فجر کا ضائع کرنا

·       عید کے دن خاص طور پر سنت کے اعتقاد سے قبروں کی زیارت کرنا، بلکہ قبروں کی زیارت کسی بھی وقت کرنا جائز ہے، اس کے لیے کوئی خاص وقت کی تحدید نہیں ہے۔

·       فضول خرچی، گرچہ جائز اعمال میں جیسے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے سامان میں حد سے زیادہ خرچ کرنا۔

·       گانے بجانے اور رقص وناچ اور برائی کے کاموں کے ذریعے  عید کا استقبال کرنا، جیسا کہ کفار اپنے تہواروں میں خوشی ومسرت کے اظہار کے لیے کرتے ہیں۔

خلاصہ کلام:

عید کے موقع پر ہم رشتہ داروں، دوست واحباب  اور پڑوسیوں  کے ساتھ صلہ رحمی کا فریضہ انجام دیں، سلام پھیلائیں، حسد ، کینہ کپٹ اور بغض وعداوت کو ختم کریں، جس نے برا سلوک کیا اس کے ساتھ معافی کا معاملہ کریں، فقراء ، مساکین اور بیواؤں میں صدقہ وخیرات کریں، بچوں میں خوشی پیدا کرنے کی کوشش کریں خصوصا یتیموں کو بھی اپنی خوشی میں شامل کریں۔ یہ  بلند اخلاق کریمانہ نبی کریم ﷺ کی بے شمار تعلیمات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، یقینا ہمارے پیارے نبی ﷺ کے اخلاق کی خداوند قدوس نے گواہی دی اور فرمایا:

وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ

( اور یقینا آپ اخلاق کے عالی مرتبے پر ہو۔)

اور آپ ﷺ نے خود فرمایا: میں نیک اخلاق وعادات کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ احمد

دوستو اور بھائیو:

 عید ایک عظیم نعمت ہے، اس عظیم نعمت پر ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ ہم رب ارض وسما ء کا بے پناہ شکر بجا لائیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ذات باری تعالیٰ کا شکر کرنے  اور گناہ کے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے

اللہ تعالیٰ ہم سب کے اعمالِ صالحہ قبول فرمائے۔ہر برس ہم اور آپ اور سارے مسلمان خوش وخرم رہیں۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

 


اضف تعليقك

تعليقات الزوار

لا يوجد تعليقات

روابط هامة


كن على تواصل


أوقات الصلاة



23 زيارة
|

30 زيارة
|

27 زيارة
|

جديد وذكر


استطلاع للرأي